منگل، 14-اپریل،2026
منگل 1447/10/26هـ (14-04-2026م)

روس کی ایران کو افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کی دوبارہ پیشکش

14 اپریل, 2026 12:07

روس نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک بار پھر اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کا افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار ہے۔

روس کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ روس اب بھی اس تجویز پر قائم ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے تحت اس کا افزودہ یورینیم اپنے پاس محفوظ رکھ سکتا ہے۔

پیسکوف کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن نے امریکہ اور خطے کی دیگر ریاستوں کے ساتھ رابطوں میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ روس اس بحران کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم ابھی تک اس پیشکش پر کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت-کینیڈا یورینیم معاہدے پر پاکستان کا تشویش کا اظہار

روس کئی سالوں سے ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات میں ایک اہم فریق رہا ہے۔ روس کا منصوبہ یہ ہے کہ ایران کے پاس موجود ضرورت سے زائد افزودہ یورینیم کو روس برآمد کیا جائے، جہاں اسے پراسیس کر کے دوبارہ جوہری ایندھن کی شکل میں ایران کو واپس کیا جائے تاکہ وہ اسے اپنے بجلی گھروں میں استعمال کر سکے۔

اس طریقے سے دنیا کے ان خدشات کو ختم کیا جا سکتا ہے کہ ایران اس یورینیم کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

کریملن نے اس بات پر زور دیا کہ روس کے پاس اتنا اعلیٰ درجے کا انفراسٹرکچر موجود ہے کہ وہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو باآسانی سنبھال سکتا ہے۔

اگر اس پیشکش پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن اور جوہری عدم پھیلاؤ کی جانب ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔