ایران ایٹمی مواد کی حوالگی پر رضامند ہوگیا، معاہدہ ہوا تو پاکستان جاؤں گا، ٹرمپ

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ تعلقات میں بڑی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری اور ایٹمی مواد حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا ہے، جس کے بعد وہ پاکستان کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے حوالے سے اہم اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اب ان شرائط پر مان گیا ہے، جن پر وہ دو ماہ قبل تک بات کرنے کو تیار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا انتہائی مضبوط وعدہ کیا ہے اور وہ اپنا وہ تمام جوہری مواد جو زیر زمین چھپایا گیا تھا، امریکہ کے حوالے کرنے پر تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال جون میں ہونے والے بی ٹو بمبار طیاروں کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اب ڈیل کرنا چاہتا ہے اور ہم ان کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی ناکام حکمتِ عملی نے ایران کو پہلے سے زیادہ متحد اور طاقتور بنا دیا
دوسری جانب ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک پیارا ملک قرار دیا اور کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے تھے لیکن جوہری پروگرام کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جنگ بہت جلد ختم ہونے جا رہی ہے اور امریکہ کو اس میں بڑی فتح ملے گی۔ صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں امریکی بحری جہاز پر داغے گئے تمام ایک سو گیارہ راکٹوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ناکام بنایا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پاکستان کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل مکمل ہو جاتی ہے، تو وہ اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم اور عسکری قیادت کو زبردست شخصیات قرار دیا۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں اب 20 سال کی کوئی قید نہیں ہوگی بلکہ ایران مستقل طور پر جوہری ہتھیاروں سے دور رہے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











