پائلٹ کے بغیر جنگ، روس کے ایس یو 57 نے فضائی معرکہ آرائی کے اصول بدل دیئے

روس نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیارے ایس یو 57 میں مصنوعی ذہانت کے ایسے نظام نصب کر دیئے ہیں، جو پائلٹ کو مشکل ترین جنگی حالات میں خودکار فیصلے لینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
روس کا سخوئی ڈیزائن بیورو اپنے جدید ترین لڑاکا طیارے ایس یو 57 ای کے مصنوعی ذہانت کے نظام کو مسلسل اپ گریڈ کر رہا ہے۔
یہ طیارہ اب ایک ایسی ذہین ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو پائلٹ کو مشکل ترین حالات میں فوری فیصلے لینے کے لیے صوتی اور بصری ہدایات فراہم کرتی ہے۔
یہ نظام پائلٹ کو دن اور رات کے کسی بھی حصے میں ہوا، زمین اور سمندر میں اہداف کو پوری درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کے قابل بناتا ہے۔
اس کے علاوہ سال 2023 میں متعارف کروائی گئی مصنوعی ذہانت پر مبنی ریڈیو ٹیکنالوجی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ طیارے اور زمینی کنٹرول کے درمیان رابطے میں کوئی خلل نہ آ سکے۔
یہ بھی پڑھیں : خلیج فارس میں امریکی اقدامات کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے، ایران کی روس کو آگاہی
اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت پائلٹ پر ذہنی دباؤ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے، جس سے سنگل سیٹ آپریشنز کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
ایس یو 57 اب اوخوتنک نامی نیم خودکار ڈرونز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے بھی تیار ہے، جو اس کی جنگی صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
مغربی ماہرین کے ان دعوؤں کے برعکس کہ روس مصنوعی ذہانت میں پیچھے ہے، یہ طیارہ جدید انجنوں اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کے ساتھ فضائی میدان میں ایک نئی طاقت بن کر ابھرا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ کا ایف 35 طیارہ ان روسی خصوصیات کا مقابلہ کر سکے گا؟
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











