اتوار، 26-اپریل،2026
اتوار 1447/11/09هـ (26-04-2026م)

ایران کی معاشی ناکہ بندی کرکے مذاکرات پر مجبور کرنے کی امریکی پالیسی ہمیشہ ناکام ثابت

26 اپریل, 2026 10:13

معروف محقق کے مطابق امریکہ کی ایران پر عائد کی جانے والی معاشی ناکہ بندی تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکام رہی ہے اور ایرانی معیشت نے ہر بار دباؤ سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا ہے۔

ایک تجزیاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری اور معاشی ناکہ بندی ایرانی معیشت کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر محقق اسفندیار باتمانگلیج نے یاد دلایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں بھی ایران پر انتہائی دباؤ کی پالیسی آزمائی تھی، جو بری طرح ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے پرانے لڑاکا طیاروں نے اربوں ڈالرز کا امریکی دفاعی نظام ناکام بنا دیا، رپورٹ میں انکشاف

2019 کے دوسرے حصے میں جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد پابندیوں میں اس قدر اضافہ کیا گیا کہ ایران کی خام تیل کی برآمدات تقریباً صفر تک پہنچ گئی تھیں۔ اس دوران تیل کے ذخائر تیزی سے بھر گئے اور ریفائنڈ ایندھن کی پیداوار تقریباً آدھی رہ گئی تھی۔

تاہم نیشنل ایرانی آئل کمپنی نے انتہائی ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے تیل کے کنوؤں کو مستقل بند کرنے کے بجائے باری باری بند کیا تاکہ زیرِ زمین دباؤ برقرار رہے اور طویل مدتی نقصان سے بچا جا سکے۔

اس کے بعد جب کورونا کی وبا آئی اور عالمی طلب گر گئی، تب بھی ایران نے ہمت نہیں ہاری۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2011 سے 2024 کے دوران جب بھی پابندیاں عروج پر پہنچیں، ایران کی پیداوار میں عارضی کمی آئی لیکن اس کے فوراً بعد بھرپور بحالی دیکھنے میں آئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کی یہ حکمت عملی کبھی بھی امریکہ کے حق میں نتائج نہیں دے سکی اور مستقبل میں بھی اس سے کوئی بڑا فائدہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔