جمعہ، 1-مئی،2026
جمعہ 1447/11/14هـ (01-05-2026م)

قبائلی سردار کو شناختی کارڈ یا ڈومیسائل کی تصدیق کا اختیار نہیں، آئینی عدالت

01 مئی, 2026 13:43

وفاقی آئینی عدالت نے ایک تاریخی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ پاکستان میں سرداری نظام قانونی طور پر 1976 میں ختم ہو چکا ہے، لہٰذا قبائلی سردار شناختی کارڈ یا ڈومیسائل کی تصدیق کا اختیار نہیں رکھتے۔

وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے بارہ صفحات پر مشتمل ایک اہم تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، جس کا براہ راست اثر ملک کے روایتی سرداری نظام پر پڑے گا۔

عدالت نے بلوچستان کے خروٹی قبیلے کے سردار غلام علی کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قبائلی سردار شناختی کارڈ، ڈومیسائل یا کسی بھی سرکاری شناختی دستاویز کی تصدیق کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کا اجراء ریاست کی ذمہ داری ہے، جو باقاعدہ ملکی قانون کے مطابق کیا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی غیر سرکاری شخص یا سردار کو قانون سے ہٹ کر یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں : ملک ریاض و دیگر کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

عدالت نے اپنے فیصلے میں تاریخی حوالے دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرداری نظام 1976 میں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے ختم کیا جا چکا ہے، اس لیے اب یہ نظام صرف ایک علاقائی روایت کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی کوئی قانونی یا عدالتی اہمیت نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی علاقائی روایت کی عدالتی توثیق نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ ملکی آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔

درخواست گزار غلام علی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنے قبیلے کے سردار ہیں اور ان کے قبیلے کے افراد کے لیے دستاویزات کی تصدیق کروانا مشکل ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار خود متاثرہ فریق نہیں ہے، اس لیے اس کی اپیل قابل سماعت نہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ شناختی دستاویزات سے محروم کوئی بھی متاثرہ شخص انفرادی طور پر عدالت سے رجوع کرنے کا اہل ہے، لیکن سردار کو یہ نمائندگی نہیں دی جا سکتی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔