رواں سال کے مون سون میں معمول سے کم بارشوں کی پیشگوئی، خشک سالی کا شدید خطرہ

موسمیاتی ماہرین نے سال 2026 کے مون سون کے دوران جنوبی ایشیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے کم بارشوں اور شدید گرمی کی پیشگوئی کی ہے۔ اجلاس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایل نینو کے اثرات کے باعث خطے میں خشک سالی اور پانی کی قلت کے سنگین چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔
ساسکوف 34 اور کلائمیٹ سروسز یوزر فورم کا جنوبی ایشیا کے خطے میں مون سون کی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں موسمیاتی ماہرین نے تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سال 2026 کے مون سون کے دوران جنوبی ایشیا کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشیں ہونے کا امکان ہے، جبکہ خطے کے مرکزی حصوں میں شدید خشک سالی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اس کے برعکس کچھ مخصوص علاقوں میں معمول یا معمول سے زیادہ بارشوں کی بھی توقع ہے، جو موسمی عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موسم سے متعلق محکمہ موسمیات نے خطرے کی گھنٹی بجادی
اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال مون سون کے دوران درجہ حرارت معمول سے کافی زیادہ رہنے کا امکان ہے، جس سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے مون سون پر ایل نینو کے اثرات انتہائی واضح ہوں گے، جو بارشوں کے پیٹرن کو تبدیل کر دیں گے۔
گرمی میں غیر معمولی اضافہ اور بارشوں میں کمی جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان اور بھارت جیسے زرعی ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
جنوبی ایشیا کے چند خطوں میں 2026 کا مون سون غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے زراعت، پانی کے ذخائر اور عوامی صحت پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین نے شہریوں اور سرکاری اداروں کو پیشگی تیاریوں کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پانی کی تقسیم اور زراعت کے شعبے کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں، اس لیے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










