ٹرمپ کی دھمکی کے بعد امریکی ایٹمی آبدوز مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ بندی کی تجاویز کو ناقابل قبول قرار دینے کے بعد، ایک امریکی اسٹیلتھ ایٹمی آبدوز کو آبنائے جبرالٹر سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے سائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جس کے فوری بعد امریکی بحریہ کی ایک اسٹیلتھ ایٹمی آبدوز کو آبنائے جبرالٹر سے مشرق وسطیٰ کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
ایران نے پاکستان کے سفارتی ذرائع سے ایک امن تجویز بھیجی تھی، جس میں مطالبات کئے گئے تھے کہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کیا جائے، پابندیوں میں نرمی لائی جائے اور علاقائی دشمنی کا خاتمہ کیا جائے۔ ایران کا مؤقف تھا کہ یہ تجاویز معقول اور ہمدردانہ ہیں، تاہم واشنگٹن نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کا فیصلہ میں کروں گا، اسرائیلی وزیر اعظم
مبصرین کا کہنا ہے کہ اوہائیو کلاس کی یہ آبدوز امریکی بحریہ کے سب سے طاقتور اثاثوں میں سے ایک ہے۔ یہ آبدوز بڑی تعداد میں ٹوما ہاک میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو بحیرہ روم میں چھپ کر ایران کے اندر گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
جبرالٹر جیسے اہم اسٹریٹجک مقام پر اس آبدوز کی موجودگی اور اس کے گرد سخت حفاظتی حصار اس بات کی علامت ہے کہ سفارت کاری کے راستے بند ہو رہے ہیں اور خطہ تصادم کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
امریکہ کی یہ فوجی نقل و حرکت ایک واضح پیغام ہے کہ وہ تہران پر دباؤ کم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












