جمعہ، 15-مئی،2026
جمعہ 1447/11/28هـ (15-05-2026م)

مغربی کنارے میں فلسطینی آثار قدیمہ پر قبضے کیلئے اسرائیلی پارلیمنٹ میں نیا قانون منظور

15 مئی, 2026 08:26

اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع قانون کے ابتدائی مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مغربی کنارے میں موجود تمام تاریخی اور آثار قدیمہ کے مقامات کا کنٹرول اسرائیلی وزارت دفاع اور وزارت ورثہ کو منتقل کر دیا جائے گا۔

اسرائیل کی پارلیمنٹ کینسٹ نے ایک ایسے قانون کی منظوری دی ہے، جو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے حقوق کو مکمل طور پر پامال کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

اس نئے قانون کے تحت جوڈیا اور سامریا ہیریٹیج اتھارٹی کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا جائے گا، جسے مغربی کنارے کے تمام تاریخی مقامات پر کھدائی، سیاحت کی ترقی اور یہاں تک کہ نجی زمینوں پر قبضے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیلی حکام نہ صرف ثقافتی مقامات بلکہ ان نجی زمینوں کو بھی قبضے میں لے سکیں گے، جنہیں وہ آثار قدیمہ کے کام کے لیے ضروری سمجھیں گے۔

اس قانون کا دائرہ کار صرف مغربی کنارے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ایسی نکات شامل کیئے گئے ہیں، جس سے مستقبل میں اسے غزہ کی پٹی تک پھیلایا جا سکے گا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل مکمل الحاق کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اس وقت مغربی کنارے میں 2 ہزار 600 سے زائد تاریخی مقامات داؤ پر لگے ہوئے ہیں، جن میں غار انبیاء، قمران کی غاریں اور سبسطیہ جیسے اہم مقامات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : نتین یاہو کی صدر ٹرمپ کے سیز فائر کے فیصلے کی حمایت، لبنان میں جنگ بندی سے انکار

ان میں وہ مسیحی اور مسلم مقدسات بھی شامل ہیں، جن کا یہودی ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن اسرائیل ان پر قبضہ کر کے فلسطینیوں کا ان کی اپنی تاریخ سے رشتہ کاٹنا چاہتا ہے۔

حیران کن طور پر اسرائیل کے اپنے ماہرین آثار قدیمہ نے بھی اس بل کی شدید مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ حکومت آثار قدیمہ کے قوانین کو سیاسی مقاصد اور زمینوں پر قبضے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

عالمی قوانین کے مطابق اسرائیل کو مغربی کنارے کے ان علاقوں میں صرف ہنگامی بنیادوں پر تحفظ کے کاموں کی اجازت ہے، لیکن بڑے پیمانے پر کھدائی اور سیاحتی مراکز کی تعمیر مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔

فسلطینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام بالکل ویسا ہی ہے، جیسا برطانیہ اور فرانس نے اپنی نوآبادیات میں کیا تھا، جہاں زمین چھیننے کے بعد مقامی لوگوں کے ثقافتی ورثے پر قبضہ کر لیا جاتا تھا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔