عالمی ادارہ صحت نے ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو سنگین عالمی مسئلہ قرار دے دیا

عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں جان لیوا ایبولا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو سنگین عالمی مسئلہ قرار دے دیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جمہوریہ کانگو اور پڑوسی ملک یوگنڈا میں ایبولا وائرس کا حالیہ پھیلاؤ اب ایک عام علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ تشویشناک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔
عالمی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ بیماری بونڈی بوگیو نامی ایبولا کی ایک انتہائی خطرناک قسم کی وجہ سے پھیل رہی ہے، تاہم فی الحال یہ ان عالمی معیارات پر پوری نہیں اترتی جو اسے ایک عالمی وبا یعنی پینڈیمک کا درجہ دے سکیں، لیکن اس کی ہلاکت خیزی انتہائی تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔
جمہوریہ کانگو کی وزارت صحت نے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں واقع صوبے ایٹوری میں اس وائرس کے نئے پھیلاؤ کے نتیجے میں اب تک 80 مشتبہ اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سیاحتی جہاز پر ہنٹا وائرس کا حملہ، تین مسافر ہلاک، عالمی ادارہ صحت کا الرٹ
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ایٹوری صوبے کے تین بڑے اور گنجان آباد علاقوں یعنی بونیا، روامبارا اور مونجوالو میں ہفتے کے روز تک وائرس کی وجہ سے اسی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ لیبارٹری نمونوں سے تصدیق شدہ آٹھ کنفرم کیسز اور انفیکشن کے 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔
سب سے زیادہ خطرناک پیش رفت یہ ہے کہ یہ وائرس اب بین الاقوامی سرحدیں عبور کر کے یوگنڈا کے دارالحکومت کمبالا تک پہنچ چکا ہے، جہاں جمعہ اور ہفتہ کے روز لیبارٹریوں سے تصدیق شدہ دو ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو بظاہر آپس میں مربوط نہیں لگتے اور یہ دونوں متاثرہ افراد جمہوریہ کانگو سے ہی یوگنڈا آئے تھے۔
اس کے علاوہ کانگو کے اپنے دارالحکومت کنشاسا میں بھی ایک ایسے ہی مریض کی تصدیق کی گئی ہے، جو حال ہی میں متاثرہ علاقے ایٹوری سے واپس لوٹا تھا، جس کے بعد دونوں افریقی ممالک کے بڑے شہروں میں ہائی الرٹ جاری کر کے قرنطینہ مراکز قائم کر دیے گئے ہیں۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












