ایران نے نیک نیتی سے مذاکرات نہ کیے تو ٹرمپ بڑا فیصلہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے، وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنی سرخ لکیریں واضح کر چکے ہیں، جن میں تہران کا ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنا شامل ہے، نیک نیتی نہ دکھانے کی صورت میں تمام فوجی آپشنز میز پر موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان انا کیلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر بارہا اس عزم کا اعادہ کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت میں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں اور اقدامات کی وجہ سے ایران اس وقت عسکری طور پر انتہائی کمزور ہو چکا ہے، جبکہ معاشی طور پر بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور عالمی سطح پر پہلے سے کہیں زیادہ تنہا ہو چکا ہے۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ایران معاشی طور پر مسلسل کمزور ہو رہا ہے اور امریکہ کے حالیہ اقدامات تہران پر دباؤ بڑھانے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں، قومی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ایرانی صدر
وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان نے خبردار کیا کہ امریکی صدر کے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں، جن میں سفارتی معاہدہ اور فوجی کارروائی دونوں شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے موجودہ مذاکرات میں نیک نیتی کا مظاہرہ نہ کیا، تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کوئی بھی ضروری اور بڑا فیصلہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
انا کیلی کے مطابق امریکی صدر نے اپنی سرخ لکیریں بہت زیادہ واضح کر دی ہیں، اور ان ریڈ لائنز میں سب سے اولین اور اہم ترین شرط یہی ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










