امریکہ اور ایران آج ورچوئل اجلاس میں معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کریں گے، امریکی میڈیا

امریکا اور ایران کے درمیان اہم مفہماتی یادداشت پر روایتی تقریب کے بجائے الیکٹرانک دستخط کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آخری لمحات میں کسی بھی غیر متوقع رکاوٹ سے بچا جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق مفہماتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کا یہ منصوبہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیار کیا گیا ہے تاکہ معاہدے کو جلد سے جلد حتمی شکل دی جا سکے۔
حکام نے بتایا کہ سکیورٹی، لاجسٹک وجوہات اور شیڈول کی پیچیدگیوں کے باعث بالمشافہ یعنی آمنے سامنے بیٹھ کر دستخط کرنے کی تجویز کو ترک کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران معاہدہ نقصان دہ ہے، ٹرمپ نے دھوکہ دیا، ہمیں سائیڈ لائن کردیا گیا، اسرائیلی حکام
سکیورٹی تقاضوں اور حکومتی امور کو چلانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس ایک ہی وقت میں بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے، اسی لیے پیش رفت کو برقرار رکھنے اور کسی بھی فریق کو پیچھے ہٹنے سے روکنے کے لیے الیکٹرانک طریقہ اپنایا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران آج اتوار کو پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایک ورچوئل اجلاس منعقد کرنے والے ہیں، جس میں اس یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیئے جانے کا امکان ہے۔
اس مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی کو مزید 60 روز تک بڑھانے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کی اہم شقیں شامل ہیں۔
یہ متوقع الیکٹرانک دستخط امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 3 ماہ سے جاری مذاکرات کا نتیجہ ہیں، جن میں پاکستان، قطر، مصر اور ترکیہ نے ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ہے۔
ماہرین کو امید ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی اور عالمی سطح پر توانائی کی مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












