پیر، 4-مئی،2026
پیر 1447/11/17هـ (04-05-2026م)

سیاحتی جہاز پر ہنٹا وائرس کا حملہ، تین مسافر ہلاک، عالمی ادارہ صحت کا الرٹ

04 مئی, 2026 10:19

بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک سیاحتی جہاز پر ہنٹا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بحرِ اوقیانوس میں موجود ’ایم وی ہونڈیئس‘ نامی سیاحتی جہاز پر ہنٹا وائرس کے حملے نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور جنوبی افریقہ کے محکمہ صحت کے مطابق اس وبا کے نتیجے میں اب تک تین افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والا ایک معمر جوڑا بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ تین مزید مسافروں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ہنٹا وائرس کے کم از کم ایک کیس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ دیگر مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔

ایک مریض اس وقت جنوبی افریقہ کے اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرِ علاج ہے، جبکہ دو دیگر مریضوں کو جہاز سے نکالنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ہنٹا وائرس ایک نایاب مگر انتہائی خطرناک بیماری ہے، جو عام طور پر چوہوں اور دیگر کترنے والے جانوروں کے فضلے یا پیشاب کے ساتھ رابطے میں آنے سے پھیلتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ میں کانگو وائرس کا پہلا شکار، 17 سالہ نوجوان دوران علاج دم توڑ گیا

یہ وائرس پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن کا باعث بنتا ہے، جسے طبی زبان میں ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی، جب گزشتہ برس مشہور اداکار جین ہیک مین کی اہلیہ بھی اسی وائرس کا شکار ہو کر انتقال کر گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بیماری زیادہ تر ماحول سے لگتی ہے، لیکن بعض نایاب کیسز میں یہ انسانوں سے انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتی ہے، جو کہ اس وقت سب سے بڑی تشویش کی بات ہے۔

متاثرہ جہاز ’ایم وی ہونڈیئس‘ ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا اور اس نے انٹارکٹیکا اور فاک لینڈ جزائر سمیت کئی مقامات کا دورہ کیا تھا، اسے اسپین کے جزائر کینری پہنچنا تھا۔ اس جہاز پر تقریباً ایک سو پچاس سیاح اور ستر کے قریب عملے کے ارکان سوار تھے۔

پہلی ہلاکت ستر سالہ شخص کی ہوئی، جس کی لاش سینٹ ہیلینا کے جزیرے پر اتاری گئی۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد اس کی اہلیہ بھی جنوبی افریقہ کے ہوائی اڈے پر گر کر ہلاک ہو گئیں، جب وہ اپنے وطن واپس جانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

جنوبی افریقہ کا قومی ادارہ برائے متعدی امراض اب ان تمام لوگوں کی تلاش کر رہا ہے، جو ان مریضوں کے رابطے میں آئے تھے۔ فی الحال اس وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے، تاہم بروقت طبی امداد سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔