سندھ میں کانگو وائرس کا پہلا شکار، 17 سالہ نوجوان دوران علاج دم توڑ گیا

سندھ میں کانگو ہیمرجک فیور کے باعث ایک 17 سالہ نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا ہے، جو رواں سال اس مہلک وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔
سندھ میں کانگو ہیمرجک فیور کے باعث رواں سال کی پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے، جہاں ایک 17 سالہ نوجوان اس مہلک وائرس کا مقابلہ نہ کرتے ہوئے انتقال کر گیا۔
متاثرہ نوجوان میں محض ایک روز قبل ہی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور وہ سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال میں زیر علاج تھا۔ بتایا گیا ہے کہ نوجوان پیشے کے لحاظ سے مویشیوں کی دیکھ بھال کا کام کرتا تھا، جہاں سے اسے یہ وائرس منتقل ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی میں ایم پاکس کا ایک اور کیس رپورٹ، سندھ میں کیسز کی تعداد 27 تک پہنچ گئی
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس بنیادی طور پر مویشیوں اور دیگر جانوروں کے جسم پر پائے جانے والے چیچڑ کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور یہ انتہائی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
عیدالاضحیٰ کی آمد کے پیش نظر ماہرین نے شہریوں کو سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مویشی منڈیوں میں جاتے وقت یا جانوروں کی دیکھ بھال کے دوران دستانوں اور حفاظتی لباس کا استعمال لازمی کیا جائے۔
جانوروں کو چھونے کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح صابن سے دھونا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جانوروں کے جسم پر موجود چیچڑ انسانی جلد کے رابطے میں نہ آئیں۔
رواں سال کانگو وائرس سے ہونے والی اس پہلی موت نے محکمہ صحت اور شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس کے باعث منڈیوں اور مویشی باڑوں میں اسپرے اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












