بدھ، 10-جون،2026
بدھ 1447/12/24هـ (10-06-2026م)

ایران انسانی اعضا کی کامیاب پیوند کاری میں مغربی ایشیا کا مرکز بن گیا

07 جون, 2026 09:46

ایران نے طبی میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مغربی ایشیا میں انسانی اعضا کی پیوند کاری کا ایک بہترین اور جدید ترین نظام قائم کر لیا ہے۔

ایران کے اس جدید ترین طبی پروگرام کی بنیاد 1989 میں امام خمینی کے ایک فتوے سے پڑی تھی، جس میں انہوں نے دماغی طور پر مردہ قرار دیئے گئے مریضوں کے اعضا عطیہ کرنے کی اجازت دی تھی۔

اس کے بعد ملک میں 1991 میں پہلی بار کسی مردہ انسان کے گردے کی پیوند کاری کی گئی، جبکہ 1993 میں جگر اور دل کی پیوند کاری کا آغاز ہوا۔ سن 2000 میں ایرانی پارلیمنٹ نے باقاعدہ قانون پاس کر کے پورے ملک میں اعضا جمع کرنے کے مراکز قائم کیے۔

آج ایران اپنے تمام بڑے اعضا کی پیوند کاری کے آپریشن خود کرتا ہے اور اس کا شہر شیراز جگر کی پیوند کاری کے حوالے سے پورے خطے کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں سالانہ سینکڑوں آپریشن کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران نے کینسر کے سستے علاج کیلئے کم سائیڈ ایفیکٹس والی مشین تیار کرلی

2023 میں ایرانی ڈاکٹروں نے دل کی دھڑکن بند ہونے کے بعد بھی اعضا نکالنے کی جدید تکنیک کا کامیاب تجربہ کیا، جس سے دستیاب اعضا کی تعداد میں 30 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس وقت سب سے بڑا چیلنج طبی سہولیات کا نہیں بلکہ عوام میں شعور بیدار کرنا ہے، کیونکہ بہت سے خاندان اب بھی دماغی موت کو نہیں سمجھ پاتے اور اعضا دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایران نے اس موضوع کو اسکول کی گیارہ کتابوں میں شامل کیا ہے اور اب ڈرائیونگ لائسنس پر بھی اعضا عطیہ کرنے کا نشان لگایا جا رہا ہے۔

ایرانی نظام کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کے تمام اخراجات حکومت خود اٹھاتی ہے تاکہ امیر اور غریب سب کو برابر علاج مل سکے، اور کسی بھی مریض کے اعضا نکالنے سے پہلے چار ماہر ڈاکٹرز آزادانہ طور پر اس کی دماغی موت کی تصدیق کرتے ہیں۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔