جگر کی بیماری خاموشی سے بڑھ سکتی ہے، ماہرین نے اہم علامات بتا دیں

Liver Disease Shows These Early Symptoms
جگر انسانی جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے۔ تاہم اس کی بیماری اکثر اس وقت سامنے آتی ہے جب مسئلہ کافی بڑھ چکا ہوتا ہے۔
ماہرینِ امراضِ جگر کے مطابق جگر میں بیماری کے باوجود انسان کو طویل عرصے تک کوئی واضح علامت محسوس نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے بہت سے افراد اپنی صحت کو لاحق خطرے سے لاعلم رہتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر 70 سے 80 فیصد تک متاثر ہونے کے باوجود بھی اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔ جگر میں درد محسوس کرنے والے اعصاب بھی موجود نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عضو کو پہنچنے والا نقصان ابتدائی مرحلے میں اکثر محسوس نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق فیٹی لیور ان بیماریوں میں شامل ہے جو کئی سال تک خاموشی سے بڑھ سکتی ہیں۔ میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیئٹو ٹک لیور ڈیزیز بھی اسی سلسلے کی ایک اہم بیماری ہے۔ بعض افراد میں یہ مسئلہ 10 سے 30 سال تک بغیر نمایاں علامات کے موجود رہ سکتا ہے۔
اگر فیٹی لیور پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔ بیماری بڑھنے کے ساتھ جگر میں سوزش اور فائبروسس پیدا ہوسکتا ہے۔ بعض مریضوں میں یہ مسئلہ سروسس، جگر کی ناکامی اور بعض صورتوں میں لیور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موٹاپا، ذیابیطس، میٹابولک سنڈروم اور جسمانی سرگرمی کی کمی جگر کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ اب کم عمر افراد بھی ان مسائل سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ فیٹی لیور صرف موٹے افراد تک محدود نہیں۔ نارمل وزن رکھنے والے افراد بھی غیر متوازن خوراک، ورزش کی کمی اور خاندانی رجحان کی وجہ سے اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں بھی فیٹی لیور کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ ذیابیطس اور موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ جگر کی پیچیدہ بیماریوں کے کیسز میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین لوگوں کو صحت مند طرز زندگی اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں جگر کی بیماری کی علامات بہت معمولی ہوسکتی ہیں۔ مسلسل تھکن، بھوک میں کمی، کمزوری، متلی اور پیٹ کے اوپری حصے میں بے آرامی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی علامات مسلسل رہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
کچھ علامات زیادہ سنگین صورتحال کی طرف بھی اشارہ کرسکتی ہیں۔ آنکھوں یا جلد کا پیلا ہونا، پیشاب کا رنگ گہرا ہونا، پیٹ یا ٹانگوں میں سوجن، جلد پر آسانی سے نیل پڑنا اور ذہنی الجھن ایسی علامات ہیں جن پر فوری طبی توجہ ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق روزمرہ خوراک بھی جگر کی صحت پر اثر ڈالتی ہے۔ زیادہ چینی، میٹھے مشروبات اور پراسیسڈ فوڈ کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح جسمانی سرگرمی کی کمی، نیند کی خرابی اور مسلسل ذہنی دباؤ بھی صحت کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔
ماہرین نے غیر ضروری ادویات کے استعمال سے بھی احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔ خاص طور پر درد کش ادویات، جڑی بوٹیوں کے نسخے اور جم سپلیمنٹس ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ بعض مصنوعات جگر پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
جن افراد کو ذیابیطس، موٹاپا یا جگر کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہو، انہیں باقاعدگی سے طبی معائنہ کروانا چاہیے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق لیور فنکشن ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ یا فائبرو اسکین، شوگر اور لپڈ پروفائل جیسے ٹیسٹ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ بروقت تشخیص سے بیماری کو مزید بڑھنے سے روکنے کے امکانات بہتر ہوجاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کو صحت مند حد میں رکھنا، متوازن غذا کھانا اور باقاعدگی سے ورزش کرنا جگر کی صحت کے لیے اہم ہے۔ ذیابیطس اور کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ ابتدائی مرحلے میں طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں جگر کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ جگر کی بیماری کی علامات ظاہر ہونے کا انتظار نہ کریں۔ خاص طور پر خطرے کے عوامل رکھنے والے افراد کو باقاعدہ چیک اپ کو معمول بنانا چاہیے۔ جگر کی بیماریاں اکثر خاموشی سے بڑھتی ہیں، اس لیے بروقت احتیاط اور طبی معائنہ صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











