نیتن یاہو 2009 سے ہی ایران پر حملے کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے، سابق امریکی وزیر دفاع

سابق امریکی وزیر دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو 2009 سے ایران پر حملے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے اور ان کا یہ اندازہ بالکل غلط تھا۔
امریکہ کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے کے سابق ڈائریکٹر اور سابق امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے ٹی وی پروگرام میں 2009 کی ایک ملاقات کے بارے میں بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ دلیل دی تھی کہ ایران کی حکومت اندرونی طور پر انتہائی کمزور اور نازک ہے اور اگر اس پر کوئی بھی فوجی حملہ کیا گیا، تو وہ پہلے ہی وار میں مکمل طور پر تباہ اور ختم ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، امریکی ماہر
رابرٹ گیٹس نے بتایا کہ انہوں نے اسی وقت نیتن یاہو کے اس جائزے اور سوچ کو یکسر مسترد کر دیا تھا اور اسرائیلی وزیراعظم کو صاف کہہ دیا تھا کہ آپ کا یہ اندازہ بالکل غلط ہے اور آپ ایرانی عوام اور وہاں کی حکومت کی لچک اور مزاحمت کی صلاحیت کو بہت کم سمجھ رہے ہیں۔
سابق امریکی وزیر دفاع نے نیتن یاہو کی اس سوچ کو ماضی میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک پر کیے جانے والے اسرائیلی حملوں سے جوڑا، جہاں اسرائیل کو بہت ہی محدود جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ان حملوں میں 1981 میں عراق کے اوسیراک جوہری ریکٹر پر اسرائیلی حملہ اور 2007 میں شام کی ایک جوہری تنصیب پر کی جانے والی بمباری شامل ہے۔
رابرٹ گیٹس کے مطابق ان پرانے واقعات اور آسان فتوحات کی وجہ سے نیتن یاہو کے ذہن میں ایران کے ردعمل کے بارے میں ایک انتہائی غیر حقیقت پسندانہ پوزیشن یا سوچ نے جنم لیا، جو کہ زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












