امریکی کمیشن کی بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس پر پابندی لگانے کی سفارش

بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اقلیت مخالف سرگرمیوں اور تشدد کے نظریات کے باعث شدید ترین عالمی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے اور امریکی کمیشن نے تنظیم پر پابندی سمیت اثاثے منجمد کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت کی نظریاتی پیشوا اور انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اقلیت مخالف پرتشدد سرگرمیوں کے سنگین الزامات کے بعد اس وقت شدید ترین عالمی دباؤ کی زد میں آ چکی ہے۔
رائٹرز کی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس تنظیم نے بھارت میں ہندوتوا یعنی ہندو بالادستی اور مسلم و دیگر اقلیتوں کے خلاف باقاعدہ تشدد کے نظریے کو فروغ دیا ہے۔
یہ تنظیم ماضی میں بھی کئی بار اپنے شدید ترین انتہا پسند رجحانات، نفرت انگیز کارروائیوں اور دہشت گردی کے باعث پابندیوں کی زد میں رہ چکی ہے، تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے حالیہ دور حکومت میں اس تنظیم کی نفرت انگیز اور متعصبانہ سیاست کو سب سے زیادہ عروج حاصل ہوا۔
رپورٹ کے مطابق بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ اس تنظیم کے خطرناک ایجنڈے کی دو سب سے بڑی کامیابیاں قرار دی گئی ہیں۔
اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے اس انتہا پسند تنظیم پر باقاعدہ پابندی عائد کرنے کی سخت سفارش کر دی ہے اور امریکی کمیشن نے اسے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے منظم تشدد اور مذہبی عدم برداشت کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
ان امریکی سفارشات میں تنظیم کے تمام عالمی اثاثے منجمد کرنے اور اس کے رہنماؤں کے امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی دوا ساز کمپنیاں دنیا بھر میں منشیات کے پھیلاؤ اور اموات کا باعث ہیں، عالمی جریدہ
اس بڑے عالمی جھٹکے کے بعد تنظیم نے ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک بہت بڑی عالمی لابنگ مہم کا آغاز کر دیا ہے اور اس کا دباؤ بڑھنے کے بعد تنظیم کے چوٹی کے رہنما فوری طور پر امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں سفارتی سطح پر سرگرم ہو گئے ہیں۔
دارالحکومت نئی دہلی میں تنظیم کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے ایک ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران یورپ اور ایشیا میں مزید لابنگ کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
تنظیم کے رہنما اس وقت مودی حکومت کے چہرے سے مذہبی شدت پسندی کا داغ دار لیبل ہٹانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 1925 سے قائم یہ تنظیم ماضی میں برصغیر کے نامور رہنما مہاتما گاندھی کے قتل جیسے ہولناک جرم میں بھی براہ راست ملوث رہی ہے۔
تنظیم نے امریکہ میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے خطیر رقم کے عوض ایک مہنگی لابنگ فرم کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں، جس پر سیاسی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی عوام کی ٹیکسوں سے اکٹھی کی گئی رقم کا ایک بڑا حصہ ایک دہشت گرد تنظیم کا عالمی امیج بہتر بنانے پر بے دردی سے ضائع کیا جا رہا ہے۔
نریندر مودی کی حکومت اپنے انھی شدت پسند نظریات کے باعث اس وقت شدید عالمی تنہائی اور دباؤ کا شکار ہے اور مودی کی اس تنظیم سے گہری وابستگی نے بھارت کے نام نہاد چمکتے بھارت یعنی شائننگ انڈیا کے بیانیے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کے خلاف روز بروز بڑھتی ہوئی نفرت اور پرتشدد کارروائیاں اب یورپ اور بھارت کے باہمی تجارتی و سفارتی تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












