امریکہ ایران معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز کی فوری بحالی ممکن نہیں، میڈیا رپورٹ

صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کھولنے کے دعوؤں کے باوجود ماہرین نے لاجسٹک اور تکنیکی مسائل کے باعث خلیجِ فارس میں تیل کی سپلائی کی فوری بحالی کو ناممکن قرار دے دیا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ امن اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے دعوؤں کے باوجود عالمی مارکیٹ میں تذبذب پایا جاتا ہے، کیونکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران امن کے کئی دعوے عارضی ثابت ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کو فوری طور پر فعال کرنا لاجسٹک لحاظ سے انتہائی مشکل ہے، کیونکہ اس وقت خلیجِ فارس میں 166 کے قریب بحری ٹینکر پھنسے ہوئے ہیں، جن میں 170 ملین بیرل خام تیل موجود ہے، اور ان کی مکمل روانگی میں تین ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران معاہدے میں اسرائیل کو لبنان میں کارروائی کی مکمل آزادی ہوگی
اس کے علاوہ، کنوؤں سے نئی پیداوار شروع کرنے سے پہلے گوداموں میں موجود پرانے ذخیرہ شدہ تیل کو اٹھانا پڑے گا۔
تکنیکی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں روزانہ 15 ملین بیرل کا رسد کا خسارہ ہے، اور کنوؤں کو بہت تیزی سے کھولنے سے زمین کے اندر دباؤ کا نظام تباہ ہو سکتا ہے، جس کے لیے سعودی عرب اور عراق کے درمیان تکنیکی ہم آہنگی لازمی ہے۔
جنگ کے دوران تباہ ہونے والی تنصیبات کی مرمت میں بھی برسوں لگ سکتے ہیں۔ انشورنس کمپنیوں نے بحری جہازوں کے تحفظ کے نرخ بڑھا دیئے ہیں اور ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق آزادانہ نقل و حمل کے بجائے اب جہازوں کو مخصوص راستے اور فیسیں ادا کرنی ہوں گی۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں کم ہونے کا کوئی امکان 2032 سے پہلے نظر نہیں آتا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










