امریکہ ایران معاہدے میں اسرائیل کو لبنان میں کارروائی کی مکمل آزادی ہوگی

امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت ایران کو مالی ریلیف صرف ایٹمی ذخائر کے مکمل خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے مشروط کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل کو لبنان سمیت تمام محاذوں پر کارروائی کی مکمل آزادی حاصل رہے گی۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نئے معاہدے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر کام جاری ہے، جس کی بنیاد صدر ٹرمپ کی اس شرط پر ہے کہ اگر ایران اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبردار نہیں ہوتا تو اسے کوئی مالی ریلیف نہیں ملے گا۔
اس فریم ورک کے تحت جیسے جیسے آبنائے ہرمز کھلے گی، ناکہ بندی میں اسی تناسب سے نرمی کی جائے گی۔ ایران نے 30 دن کے اندر جہاز رانی بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ مؤقف بھی اپنایا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں سے راہداری فیس وصول کرنے کا حق رکھتا ہے، جو عمان اور ایران کا باہمی معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ 95 فیصد تک مکمل ہوچکا ہے، میڈیا رپورٹس
یہ معاہدہ فریقین کو حتمی تصفیے کے لیے 60 دن کا وقت فراہم کرتا ہے، جس کے دوران افزودہ یورینیم کا مکمل خاتمہ ہدف ہے۔
صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ 2015 کے ایٹمی معاہدے سے بالکل مختلف ہے، تاہم صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فون کال میں ٹرمپ نے یقین دلایا ہے کہ اسرائیل کو لبنان سمیت تمام محاذوں پر کارروائی کی مکمل آزادی ہوگی۔
دوسری جانب ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر اس فریم ورک میں خاموشی ہے۔ معاشی بحالی کے تحت آبنائے ہرمز کی بحالی کے بعد منجمد اثاثے جاری ہوں گے اور تیل کی فروخت پر پابندی ہٹنے سے ایران کو 60 دن میں 10 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










