کبوتر راستہ کیوں نہیں بھولتے؟ نئی تحقیق میں سائنسدانوں کا دلچسپ انکشاف

Why Pigeons Never Lose Direction
جرمنی کے سائنس دانوں نے کبوتروں کی حیران کن سمت شناسی کی صلاحیت سے متعلق ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ہومنگ کبوتروں کے اپنے گھر یا منزل کا راستہ تلاش کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کا تعلق صرف دماغ یا آنکھوں سے نہیں بلکہ ان کے جگر سے بھی ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق جرمنی کی یونیورسٹی آف بون اور میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ محققین نے ہومنگ کبوتروں کا تفصیلی جائزہ لیا، جو سینکڑوں کلومیٹر دور سے بھی اپنے گھروں تک واپس پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ طویل عرصے سے سائنس دان اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر یہ پرندے اتنی درست سمت کیسے معلوم کرتے ہیں۔
ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ کبوتروں کی چونچ، آنکھوں اور دماغ میں ایسے نظام موجود ہیں جو زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے جگر میں پائے جانے والے مخصوص مدافعتی خلیات پر توجہ مرکوز کی۔ ان خلیات کو سپر پیرا میگنیٹک میکروفیجز کہا جاتا ہے، جو جسم میں آئرن یا لوہے کو جمع کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی لوہے سے بھرپور خلیات زمین کے مقناطیسی میدان کے لیے حساس ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ کبوتروں کو سمت کا تعین کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ان خلیات کی تعداد کم کرکے ان کے اثرات کا مشاہدہ کیا۔ نتائج نے حیران کن حقائق سامنے رکھ دیے۔
تحقیق میں دیکھا گیا کہ جب ان مخصوص خلیات کی مقدار کم کی گئی تو بادلوں اور خراب موسم میں پرواز کرنے والے کبوتر اپنی سمت درست انداز میں تلاش نہیں کر سکے۔ وہ معمول کے مقابلے میں زیادہ الجھن کا شکار نظر آئے۔ اس کے برعکس صاف موسم میں کبوتر سورج کی روشنی اور اردگرد موجود قدرتی نشانات کی مدد سے اپنی منزل کی طرف پرواز کرتے رہے اور انہیں راستہ تلاش کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔
ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ کبوتروں کا نیویگیشن سسٹم انتہائی پیچیدہ ہے۔ وہ صرف ایک حسی نظام پر انحصار نہیں کرتے بلکہ مختلف قدرتی اشاروں کو ملا کر راستہ تلاش کرتے ہیں۔ زمین کا مقناطیسی میدان، سورج کی پوزیشن اور بصری نشانات سب مل کر ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔
محققین کے مطابق جگر میں موجود یہ مخصوص خلیات سمت شناسی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر مستقبل کی تحقیقات بھی اس نظریے کی تصدیق کرتی ہیں تو یہ دریافت نہ صرف پرندوں بلکہ دیگر جانوروں میں نیویگیشن کے نظام کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس تحقیق سے قدرتی مقناطیسی حس کے بارے میں مزید اہم راز سامنے آ سکتے ہیں۔
Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












