جمعرات، 4-جون،2026
جمعرات 1447/12/18هـ (04-06-2026م)

ہر پاکستانی پیدائشی طور پر 3 لاکھ 33 ہزار روپے کا مقروض ہو گیا

04 جون, 2026 14:46

معاشی ماہرین کے مطابق مجموعی قرضوں کا حجم 97 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرنے کے بعد اب ہر پاکستانی پیدائشی طور پر 3 لاکھ 33 ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔

حکومت کی جانب سے کی جانے والی مختلف معاشی اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود پاکستان پر قرضوں کا بوجھ ملکی تاریخ کی خطرناک ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے اعدادوشمار کے مطابق اب ہر پاکستانی پیدائشی طور پر 3 لاکھ 33 ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔

صرف ایک  سال کے مختصر عرصے کے دوران فی شہری پر اس پیدائشی قرض کے بوجھ میں 13 فیصد یعنی 39 ہزار روپے کا خطرناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے حکومت اور ملکی معیشت دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

پاکستان کا مجموعی عوامی قرضہ اب بڑھ کر 80.5 کھرب روپے سے زیادہ ہو گیا ہے، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 70 فیصد بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی شہریوں کی اوسط سالانہ آمدنی صرف 5 لاکھ 32 ہزار روپے کے قریب ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پر مجموعی اندرونی و بیرونی قرضوں کا کل حجم اب بڑھ کر 97 ہزار 307 ارب روپے تک جا پہنچا ہے، جبکہ گزشتہ برس یہ رقم 89 ہزار 774 ارب روپے تھی۔

اس طرح صرف ایک سال کے دوران قرضوں میں 7  ہزار 533 ارب روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔ ملک کی مجموعی معیشت یا جی ڈی پی کا حجم تقریباً 127 ہزار ارب روپے ہے اور اس کے مقابلے میں قرضوں کا یہ تناسب 76 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

ماہرین نے اس صورتحال کو آسان الفاظ میں سمجھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو ایک گھر تصور کیا جائے تو اس گھر کی کل آمدنی 127 روپے ہے، جبکہ اس پر قرضہ 76 روپے کے برابر ہو چکا ہے، جو شدید مالی دباؤ کو واضح کرتا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔