یکم جولائی سے کون کتنا ٹیکس ادا کرے گا؟ جانیے

How Much Tax From July 1?
وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
اگر پارلیمنٹ سے بجٹ کی منظوری مل جاتی ہے تو نئے ٹیکس قوانین یکم جولائی 2026 سے نافذ ہو جائیں گے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد متوسط اور تنخواہ دار طبقے کو کچھ ریلیف فراہم کرنا اور ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق کم آمدنی والے افراد کو بدستور ٹیکس چھوٹ حاصل رہے گی۔ ماہانہ 50 ہزار روپے تک تنخواہ حاصل کرنے والے افراد سے کوئی انکم ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے لاکھوں ملازمین کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
نئی تجویز کے تحت 50 ہزار روپے سے زائد اور ایک لاکھ روپے تک ماہانہ آمدنی رکھنے والے افراد پر صرف ایک فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے ہے تو اسے تقریباً ایک ہزار روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
ایک لاکھ روپے سے زائد اور ایک لاکھ 83 ہزار 333 روپے تک آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح مختلف رکھی گئی ہے۔ اس سلیب میں مقررہ رقم کے ساتھ اضافی آمدنی پر 11 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
اسی طرح ایک لاکھ 83 ہزار 334 روپے سے دو لاکھ 66 ہزار 667 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے ملازمین کو مقررہ ٹیکس کے علاوہ اضافی آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ دو لاکھ 66 ہزار 668 روپے سے تین لاکھ 41 ہزار 667 روپے تک تنخواہ لینے والوں کے لیے شرح 25 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق تین لاکھ 41 ہزار 668 روپے سے چار لاکھ 46 ہزار 667 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے افراد پر 29 فیصد شرح سے ٹیکس لاگو ہوگا۔ جبکہ چار لاکھ 46 ہزار 668 روپے سے پانچ لاکھ 83 ہزار 333 روپے ماہانہ آمدنی والوں کو 32 فیصد شرح سے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے افراد کے لیے بھی نئی شرحیں متعارف کروائی گئی ہیں۔ پانچ لاکھ 83 ہزار 333 روپے سے زیادہ ماہانہ آمدنی رکھنے والے افراد مقررہ رقم کے علاوہ اضافی آمدنی پر 35 فیصد انکم ٹیکس ادا کریں گے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












