پیر، 22-جون،2026
پیر 1448/01/07هـ (22-06-2026م)

استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ

22 جون, 2026 10:28

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

اجلاس میں سیکریٹری تجارت جواد پال نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر عائد پانچ سالہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی میں بھی کمی کی جائے گی۔ ڈیوٹی کو 40 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس فیصلے کا مقصد مارکیٹ میں مقابلہ بڑھانا اور صارفین کو بہتر آپشن فراہم کرنا ہے۔ اس سے مقامی مارکیٹ میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔

سیکریٹری تجارت نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت مختلف ٹیکس اور ڈیوٹیز کو مرحلہ وار کم کیا جا رہا ہے۔ تمام ٹیرف سسٹم کو ڈیجیٹل بنانے پر بھی کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ریگولیٹری ڈیوٹی 50 فیصد تک تھی۔ اب اسے کم کر کے 20 فیصد تک لایا جا چکا ہے۔ حکومت کا مقصد ٹیرف سسٹم کو زیادہ شفاف اور آسان بنانا ہے۔

اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ماضی میں پرسنل بیگیج اسکیم کا غلط استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ افراد اوورسیز پاکستانیوں کے نام اور دستاویزات کا غیر قانونی استعمال کر کے گاڑیاں درآمد کرتے رہے۔

سیکریٹری تجارت نے کہا کہ اب درآمد ہونے والی گاڑیوں کے لیے 62 حفاظتی معیار (سیفٹی اسٹینڈرڈز) لازمی ہوں گے۔ یہ اصول مقامی تیار کردہ گاڑیوں پر بھی سختی سے لاگو ہوں گے۔

قومی اسمبلی کی کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ ماضی میں مقامی آٹو انڈسٹری کو بہت زیادہ تحفظ دیا گیا۔ اسی وجہ سے مارکیٹ میں مقابلہ کم رہا۔

انہوں نے کہا کہ اب اگر بیرونی گاڑیوں کی امپورٹ بڑھتی ہے تو اس سے مقابلہ بڑھے گا۔ اس کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آنے کی امید ہے۔

اجلاس میں عالمی ٹیرف پالیسی پر بھی بات چیت ہوئی۔ اراکین نے امریکہ کی پالیسیوں کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ امریکہ نے کچھ وقت کے لیے تمام ممالک پر تقریباً 10 فیصد ٹیرف لگایا تھا، تاہم بعد میں اس فیصلے پر قانونی سوالات بھی اٹھے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔