منگل، 23-جون،2026
منگل 1448/01/08هـ (23-06-2026م)

مالی سال 2026-27 کا فنانس بل قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا

23 جون, 2026 15:12

فنانس بل 2026-27 قومی اسمبلی سے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا، اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی تمام ترامیم مسترد ہوگئیں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کیا گیا مالی سال 2026-27 کا فنانس بل اور وفاقی بجٹ قومی اسمبلی سے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں ہیں۔

فنانس بل کی منظوری کے وقت پی ٹی آئی کے ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے۔ فنانس بل کی حتمی منظوری کے فوراً بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کل دن 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

منظور کیے جانے والے اس نئے فنانس بل میں ملک کے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبس متعارف کرائے گئے ہیں، جن کا باقاعدہ اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔

نئے سلیب کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے تمام افراد کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، یعنی ان پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت کو غیر قانونی کہنا محض ایک ذہنی اختراع ہے، وزیر اعظم

جبکہ 6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں کو ایک فیصد ٹیکس دینا ہوگا اور 12 سے 22 لاکھ روپے سالانہ والوں پر 6 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے ساتھ اس سلیب پر اضافی رقم پر 11 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

اسی طرح 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ کمانے والوں کو ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 20 فیصد ٹیکس دینا ہوگا، جو کہ پہلے 23 فیصد تھا۔

مزید برآں، 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ والوں پر 3 لاکھ 46 ہزار روپے فکسڈ اور اضافی رقم پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

41 سے 56 لاکھ روپے سالانہ والوں پر 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکسڈ اور اضافی رقم پر 29 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

بل کے تحت 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں پر 9 لاکھ 76 ہزار روپے فکسڈ اور اضافی رقم پر 32 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، جبکہ 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ تنخواہ لینے والوں کو 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 35 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔