جمعرات، 2-جولائی،2026
جمعرات 1448/01/17هـ (02-07-2026م)

واٹس ایپ گروپ میں غیر قانونی مواد شیئر ہونے پر ایڈمن یا ممبر مجرم نہیں کہلائے گا، لاہور ہائی کورٹ

02 جولائی, 2026 15:26

لاہور ہائیکورٹ نے واٹس ایپ گروپس کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی گروپ کا صرف ممبر یا ایڈمن ہونا جرم نہیں ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے واٹس ایپ گروپس کی قانونی حیثیت اور ان میں شیئر ہونے والے مواد کے حوالے سے ایک بڑا اور سنگ میل فیصلہ جاری کیا ہے، جسے عدالتی نظیر قرار دے دیا گیا ہے۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے 13 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم کیس میں نامزد ملزم سید عبدالمنان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں : سانحہ کاہنہ، چھت پر مٹی ڈالنا 14 بچوں کی موت کا سبب بنا، رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ کسی واٹس ایپ گروپ کا محض ممبر ہونا یا صرف گروپ ایڈمن ہونا کسی بھی شخص پر فوجداری ذمہ داری عائد کرنے کے لیے کافی نہیں ہے اور نہ ہی گروپ میں صرف موجود رہنا یا خاموش رہنا کوئی جرم ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قانون کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گروپ میں کسی بھی قسم کا غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والا شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہوگا اور کارروائی صرف اسی کے خلاف ہوگی۔

تاہم، موجودہ کیس کے ملزم سید عبدالمنان پر واٹس ایپ پر توہین آمیز مواد پھیلانے کے براہ راست الزامات تھے اور عدالت نے بادی النظر میں ٹیکنیکل اینالیسز رپورٹ کو قابل اعتماد قرار دیتے ہوئے ملزم کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو ملزم کا ٹرائل جلد سے جلد مکمل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔