گنج پن کے علاج میں بڑی پیش رفت، سائنسدانوں نے نئے بال اگانے کی امید روشن کر دی

Great news for those troubled by baldness
گنج پن اور بالوں کے جھڑنے سے پریشان افراد کے لیے حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔
سال 2026 میں ہونے والی نئی سائنسی تحقیقات نے اس امید کو مزید مضبوط کیا ہے کہ مستقبل میں صرف بالوں کا گرنا روکنا ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر جھڑ جانے والے بال دوبارہ اگانا بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے دنیا بھر میں کئی جدید طریقہ علاج پر تحقیق جاری ہے، جن کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا قرار دیے جا رہے ہیں۔
فی الحال بالوں کے جھڑنے کے علاج کے لیے منوکسڈیل اور ڈی ایچ ٹی ہارمون کو کم کرنے والی ادویات زیادہ استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ علاج کئی افراد میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں، لیکن ہر مریض کو یکساں فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس کے علاوہ علاج روکنے کے بعد اکثر مریضوں میں دوبارہ بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اب ایسے مستقل علاج کی تلاش میں ہیں جو بالوں کی جڑوں کو دوبارہ فعال کر سکے۔
اسی سلسلے میں ABS-201 نامی ایک تجرباتی علاج پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ سمارٹ انجیکشن غیر فعال بالوں کی جڑوں کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ابتدائی تجربات میں جانوروں پر اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ گنج پن کا شکار بندروں میں بالوں کی کثافت میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ چوہوں میں بھی روایتی علاج کے مقابلے میں بہتر نتائج حاصل ہوئے۔ اب یہ طریقہ انسانوں پر کلینیکل آزمائش کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (UCLA) کے محققین نے بالوں کی جڑوں میں موجود اسٹیم سیلز پر تحقیق کرتے ہوئے ایک نئی پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق فولیکلز میں لیکٹیٹ کی مقدار بڑھانے سے غیر فعال خلیات دوبارہ کام شروع کر سکتے ہیں۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر PP405 نامی ایک نئی دوا تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد بالوں کی جڑوں کو اندر سے دوبارہ فعال کرنا ہے۔
ماہرین نے قدرتی شکر ڈی آکسی رائبوز کو بھی امید افزا قرار دیا ہے۔ ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مادہ بالوں کی جڑوں کے ارد گرد نئی خون کی نالیاں بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس عمل سے آکسیجن اور غذائی اجزا بہتر انداز میں جڑوں تک پہنچتے ہیں، جس سے بالوں کی نشوونما میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس طریقہ علاج پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
جاپان اور امریکا کے سائنس دانوں نے اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کی مدد سے لیبارٹری میں نئے بالوں کے فولیکلز تیار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ مصنوعی فولیکلز قدرتی بالوں کی طرح بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں یہ طریقہ شدید گنج پن، جلنے کے باعث بال ختم ہونے یا جلدی بیماریوں کے شکار افراد کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران ایک اور اہم دریافت بھی سامنے آئی ہے۔ جدید امیجنگ ٹیکنالوجی سے معلوم ہوا ہے کہ بال صرف جڑ سے باہر نہیں نکلتے بلکہ فولیکل کے مخصوص خلیات انہیں منظم انداز میں اوپر کی طرف بڑھاتے ہیں۔ اس دریافت سے ایسے نئے علاج تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو بالوں کی قدرتی نشوونما کے عمل کو براہ راست بہتر بنائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تمام علاج ابھی تحقیق اور کلینیکل آزمائش کے مراحل میں ہیں، اس لیے عام مریضوں تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت، اسٹیم سیل ریسرچ اور ری جنریٹو میڈیسن میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے اس امید کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کر دیا ہے کہ مستقبل میں گنج پن کا زیادہ مؤثر اور دیرپا علاج دستیاب ہوگا۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












