اسرائیلی سافٹ ویئر کا نیا شکار، یورپی پارلیمنٹ کے رکن کی جاسوسی کا انکشاف

یورپی پارلیمنٹ کی جاسوسی ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے سابق یونانی رکن اسٹیلیوس کلوگلو کے فون پر اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ پیگاسس سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کر کے جاسوسی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے سابق رکن اسٹیلیوس کلوگلو کے موبائل فون کی پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے جاسوسی کی گئی ہے۔
یہ جاسوسی اس وقت کی گئی، جب وہ خود یورپ میں نگرانی کے نظام کے غلط استعمال کی تحقیقات کر رہے تھے۔ اسٹیلیوس کلوگلو نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی نجی زندگی پر برے لوگ نظر رکھے ہوئے ہیں تو غصہ آنا فطری ہے، یہ بدعنوانی اور جمہوریت کا بڑا مسئلہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل لبنان معاہدہ جنگی جرائم کے متاثرین کے ساتھ دھوکا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل
سٹیزن لیب نے بتایا کہ کلوگلو کے فون پر پہلا حملہ 21 اکتوبر 2022 کو اس وقت ہوا، جب وہ اسپتال میں داخل تھے اور کمیٹی اپنی پہلی رپورٹ تیار کر رہی تھی، جبکہ دوسرا حملہ 6 اور 7 مارچ 2023 کو برسلز کے سفر کے دوران کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق یہ حملہ اسی سرکاری کلائنٹ نے کیا ہے، جس نے اس سے قبل یورپ میں مقیم روسی اور بیلاروسی صحافیوں کو نشانہ بنایا تھا۔
ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور ان کی سفارشات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سٹیزن لیب کے محقق جان اسکاٹ ریلٹن نے کہا کہ یہ یورپ کا سب سے بڑا تضاد ہے کہ جو شخص خود پیگاسس کی تحقیقات کر رہا تھا، اسی کے فون کو ہیک کر لیا گیا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یورپی پارلیمنٹ کے کئی دیگر اراکین بھی اس وقت ہیکنگ کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کی جیبوں میں موجود فون ان کی جاسوسی کر رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












