اتوار، 5-جولائی،2026
اتوار 1448/01/20هـ (05-07-2026م)

افغانستان میں سابق سیکیورٹی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ

05 جولائی, 2026 12:41

افغانستان میں سابق سیکیورٹی اہلکاروں اور فوجی کمانڈروں کے خلاف مبینہ تشدد، گرفتاریوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے طالبان کی عام معافی کے دعوؤں پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔

افغانستان کے مختلف صوبوں سے سابق حکومت کے فوجی اور سیکیورٹی حکام کو نشانہ بنائے جانے کی تشویشناک رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔

افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق صوبہ بدخشاں میں سابق سیکیورٹی ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے ڈپٹی ہیڈ عبدالجمیل جویا فیض آباد میں ایک مسلح حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے ہیں۔

ایک اور افغان اخبار ہشت صبح کے مطابق عبدالجمیل جویا بدخشاں کے مختلف سرکاری محکموں سمیت گریٹر بدخشاں اربن سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ میں اہم خدمات انجام دینے والی ایک انتہائی بااثر شخصیت تھے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے بلوچستان کی سرحد پار سے آنے والے افغان طالبان کے 4 ڈرونز تباہ کردیئے

اسی طرح دی کابل ناؤ کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز صوبہ پکتیکا کے ضلع جانی خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے سابق پولیس اہلکار محمد عمر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔

ان واقعات کے علاوہ گزشتہ ہفتے صوبہ پروان سے سابق افغان فوجی کمانڈر حشمت اللہ کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور بعد میں مبینہ طور پر قتل کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی مزاحمتی تحریکوں کو دبانے اور اپنے اقتدار کو مکمل طور پر مستحکم کرنے کے لیے سابق سیکیورٹی اہلکاروں اور فوجی کمانڈروں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ان مسلسل ہلاکتوں کے بعد افغان طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالتے وقت کیے گئے عام معافی کے اعلانات اور وعدوں پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔