اسرائیل لبنان معاہدہ جنگی جرائم کے متاثرین کے ساتھ دھوکا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والا معاہدہ جنگی جرائم کے متاثرین کو انصاف سے محروم کر سکتا ہے۔
انسانی حقوق اور صحافتی آزادی کی عالمی تنظیموں نے 26 جون کو واشنگٹن میں ہونے والے اسرائیل لبنان فریم ورک معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل اگنیس کیلامارڈ سمیت دیگر رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ معاہدے کی شق نمبر 13 دونوں ممالک کو عالمی قانونی فورمز پر ایک دوسرے کے خلاف کارروائی سے روکتی ہے۔
اس شق کی وجہ سے عالمی عدالت انصاف یا عالمی فوجداری عدالت میں جنگی جرائم کے خلاف آواز اٹھانے کا حق چھن جائے گا جو کہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کو حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں سے نہیں روکتا جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : انتہا پسند اسرائیلی وزیرِ اتمار بن غفیر کا قانونی کارروائی کے ڈر سے نیویارک کا دورہ منسوخ
بیان میں معاہدے کی شق نمبر 3 کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے تحت جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں پر قابض اسرائیلی فوج وہاں کے باشندوں کی واپسی کو غیر ریاستی مسلح گروہوں کے خاتمے سے مشروط کر رہی ہے۔ عالمی قانون کے مطابق جنگ ختم ہونے کے بعد بے گھر شہریوں کو فوری واپس آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق 8 اکتوبر 2023 سے اب تک لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 8 ہزار 700 سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں، جن میں 569 بچے اور 357 طبی عملے کے ارکان شامل ہیں، جبکہ متعدد صحافیوں کو بھی نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔
حقوق انسانی کی تنظیموں نے لبنانی پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن معاہدے کے تحت متاثرین کے حقوق کا سودا نہ کرے اور عالمی فوجداری عدالت کو لبنان میں ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کا اختیار دے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











