کے پی میں متنازع بل کی منظوری، اختیار ولی نے شدید تحفظات ظاہر کر دیے

پشاور: وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اور مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور ہونے والے متنازع استحقاق ترمیمی بل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ایسے قوانین متعارف کرا رہی ہے جن کا مقصد اختلافی آوازوں، آزاد صحافت اور جمہوری احتساب کو محدود کرنا ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے منظور کیا گیا بل وزیر اعلیٰ اور حکومتی ارکان کو غیر معمولی اختیارات دینے کی کوشش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایسا اختیار دیا جا رہا ہے جو “مغل بادشاہوں کے پاس بھی نہیں تھا” اور یہ اقدام جمہوری اقدار اور آئینی توازن کے منافی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئے قانون کے تحت اسمبلی میں پیش ہونے والی تحریک التوا، سوالات، قرارداد یا دیگر کارروائی اس وقت تک میڈیا پر نشر یا شائع نہیں کی جا سکے گی جب تک اسپیکر اسے ایوان میں پیش نہ کر دیں، جس سے پارلیمانی رپورٹنگ اور عوام کے حقِ معلومات پر قدغن لگے گی۔
اختیار ولی کے مطابق بل کے ذریعے حکومت کو یہ اختیار بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ ناپسند صحافیوں اور میڈیا اداروں کو اسمبلی کی کوریج سے روک سکے، جو آزادیٔ اظہار پر براہِ راست حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی رکنِ اسمبلی یا حکومتی شخصیت متنازع اقدام کرے تو اس کے خلاف کارروائی کے لیے بھی خصوصی رعایتیں رکھی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ “کے پی اسمبلی والے ڈی چوک پر آکر جلاؤ گھیراؤ کریں لیکن کوئی مقدمہ نہیں ہوگا”، جبکہ اسپیکر کو بھی یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ کسی مقدمے کی اجازت دیں یا نہ دیں۔
اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ ارکان اسمبلی کو آٹھ آٹھ کلاشنکوف کے لائسنس دیے جا رہے ہیں اور حکومتی اشرافیہ کے لیے الگ قانونی تحفظات پیدا کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ “حکومت اپنے لیے الگ قانون اور عوام کے لیے الگ قانون چاہتی ہے”۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے صوبے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال کو بھی تشویشناک قرار دیا۔
ان کے مطابق گومل یونیورسٹی انتظامی بحران کا شکار ہے، جبکہ یونیورسٹی آف پشاور پہلے ہی مالی مشکلات کا اعلان کر چکی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کی 34 جامعات میں سے 18 بند ہو چکی ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بھی عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں، جبکہ حکومت کارکردگی کے غیر حقیقی دعوے کر رہی ہے۔ ان کے بقول ہیلتھ کارڈ منصوبے میں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
اختیار ولی نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں غیر قانونی کان کنی، منشیات کے کاروبار اور بدعنوانی کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔
ان کے مطابق سونے، کوئلے اور دیگر معدنیات کی غیر قانونی کان کنی جاری ہے، لیکن حکومت ان سرگرمیوں کی روک تھام میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی مثالی سمجھی جانے والی خیبرپختونخوا پولیس اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور بحالی کے فنڈز میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
اختیار ولی نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور کیا گیا استحقاق ترمیمی ایکٹ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
ان کے مطابق اگر اس قانون کو بروقت ختم نہ کیا گیا تو بعد ازاں اس کے اثرات ختم کرنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے وفاقی حکومت، قومی اسمبلی اور احتسابی اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خیبرپختونخوا میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، کرپشن اور مختلف اسکینڈلز کی شفاف تحقیقات کریں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









