اتوار، 12-جولائی،2026
اتوار 1448/01/27هـ (12-07-2026م)

غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی میں تاخیر، یورپی یونین پر سہولت کاری کا الزام

12 جولائی, 2026 13:24

غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی لگانے کے معاملے میں سست روی کا مظاہرہ کرنے پر یورپی یونین کو شدید تنقید کا سامنا ہے، اس پر اسرائیلی جرائم میں سہولت کاری کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق برسلز میں یورپی یونین کے 27 وزرائے خارجہ کا اجلاس ہونے جا رہا ہے, جس میں غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری شدید تشدد، جس میں اب تک 235 معصوم فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں، کے تناظر میں غیر قانونی بستیوں سے امپورٹ پر پابندی پر غور کیا جائے گا۔

تاہم نیتن یاہو حکومت کو جواب دینے کے معاملے پر یورپی ممالک کے باہمی اختلافات کی وجہ سے کسی فوری فیصلے کی امید نہیں ہے۔

یورپی کمیشن کی ایک خفیہ دستاویز کے مطابق بائیکاٹ کے بجائے 3 متبادل تجارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے, جن میں بستیوں کی مصنوعات پر بھاری ڈیوٹی لگانا یا امپورٹ لائسنس کا نظام شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یورپی یونین کا غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیوں پر غور

اس دستاویز میں یہ بھی مانا گیا ہے کہ ان اقدامات سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے اسرائیلی عام انتخابات پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

بیلجیم، نیدرلینڈز اور اسپین سمیت 10 یورپی ممالک کا م=قف ہے کہ 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیل کے قبضے کو نسل پرست اور غیر قانونی قرار دیا تھا، اس لیے اب یورپی یونین عالمی قانون کے تحت اسرائیل سے تجارتی بائیکاٹ کرنے کی پابند ہے۔

100 سے زائد قانونی ماہرین نے بھی یورپی کمیشن کو خط لکھ کر اس پابندی کو لازمی قرار دیا ہے، کیونکہ تحقیقات کے مطابق ہر 6 میں سے ایک اسرائیلی تجارتی کھیپ مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا شام کے گولان ہائٹس کی ہوتی ہے، جن میں سے 42 فیصد پر غلط لیبل لگا کر انہیں اسرائیل کی مصنوعات ظاہر کیا جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ اور دیگر سفارت کاروں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ یورپی یونین نیتن یاہو حکومت کے خلاف سخت ترین قانونی قدم اٹھانے کے بجائے اسے محض ایک آپشن کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس سے اس کی اپنی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔