امریکی ایوان نمائندگان میں 100 سے زائد ڈیموکریٹس کا اسرائیل کی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ

امریکی ایوان نمائندگان میں 100 سے زائد ڈیموکریٹس ارکان نے اسرائیل کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی فوجی امداد روکنے کے حق میں ووٹ دے کر اپنی ہی جماعت میں بڑی دراڑ کو واشنگٹن میں ظاہر کر دیا۔
امریکی ایوان نمائندگان میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا بل تو منظور ہو گیا ہے لیکن اس دوران 100 سے زائد ڈیموکریٹ ارکان اسمبلی نے اسرائیل کی فوجی امداد روکنے کے حق میں ووٹ دیا ہے، جو کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے معاملے پر بڑھتے ہوئے شدید اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔
اسرائیل کی فوجی امداد بند کرنے کی یہ ترمیم ریپبلکن رکن تھامس میسی نے پیش کی تھی، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے ناقد ہیں اور اسرائیل کے لیے امریکی مدد پر ہمیشہ سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
اس ترمیم کے حق میں کل 104 ووٹ آئے، جن میں 103 ڈیموکریٹس ارکان اور ایک ریپبلکن رکن شامل تھا جبکہ اس کے خلاف 314 ارکان نے ووٹ دیا، جس کی وجہ سے یہ ترمیم ناکام ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل امریکا کو ایران کے خلاف لامتناہی جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے، امریکی نائب صدر
اس ووٹنگ کے دوران 98 ڈیموکریٹس نے اسرائیل کو امداد دینے کی حمایت کی جبکہ 10 ارکان خاموش رہے۔ ڈیموکریٹک قیادت کے سب سے بڑے 3 رہنما بھی اس معاملے پر تقسیم نظر آئے، جہاں حکیم جیفریز اور پیٹ ایگیولر نے ترمیم کے خلاف ووٹ دیا جبکہ کیتھرین کلارک نے اسرائیل کی فوجی امداد بند کرنے کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔
ترقی پسند ڈیموکریٹ ارکان نے اس ووٹنگ کو تاریخی کامیابی قرار دیا ہے کیونکہ تاریخ میں پہلی بار اکثریت نے اسرائیل کی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ 2 سال پہلے صرف 37 ارکان نے ایسا کیا تھا۔
امریکی رکن اسمبلی الہان عمر نے کہا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے، جب نیتن یاہو کو واضح پیغام مل گیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی اب ان کے جنگی جرائم اور من مانی جنگوں کے لیے کوئی اندھا دھند فنڈنگ نہیں کرے گی۔
دوسری رکن سمر لی نے بھی اس ووٹنگ کو پارٹی میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب کسی بھی امریکی رکن کے لیے اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی فلسطینیوں کی نسل کشی کا دفاع کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












