کیا امریکا ایران کے ساحلی جزائر پر مستقل قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟

امریکا کی جانب سے ایرانی جزیروں پر حملے سے یہ تاثر سامنے آرہا ہے، امریکا ایرانی تزویراتی جزائر پر مستقل قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جسے ماہرین نے انتہائی مہنگا اور خطرناک پلان قرار دیا ہے۔
امریکی افواج نے حالیہ دنوں میں ایران کے ساحلی جزائر بشمول قشم، کیش اور ابو موسیٰ پر شدید فضائی حملے کیے ہیں، جس نے یہ سوال دوبارہ کھڑا کر دیا ہے کہ کیا واشنگٹن واقعی ایران کی سرزمین پر مستقل قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
رواں سال مارچ کے مہینے میں امریکی حکام نے انکشاف کیا تھا کہ پینٹاگون خارگ جزیرے پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں سے ایران کا 90 فیصد تیل برآمد کیا جاتا ہے، اور یہ بحث اس وقت دوبارہ شروع ہوئی، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس زمینی آپریشن کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ عسکری لحاظ سے امریکا اتنی بڑی بحری اور فضائی طاقت رکھتا ہے کہ وہ ایران کے کسی چھوٹے جزیرے پر قبضہ کر لے کیونکہ خطے میں اس کے 50 ہزار سے زائد فوجی تعینات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اپنے وجود کی جنگ لڑرہا ہے، امریکا کا ہدف حکومت کا خاتمہ اور ملک کی تقسیم ہے، ایرانی اسپیکر
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی جزیرے پر عارضی قبضہ کرنا اور بات ہے لیکن وہاں طویل عرصے تک ٹھہرنا اور سپلائی برقرار رکھنا انتہائی مشکل اور مہنگا سودا ثابت ہو گا۔
قشم جیسے بڑے جزیرے پر جو ایرانی سرزمین کے قریب واقع ہے، امریکی فوج کو ایرانی توپ خانے، ڈرونز، میزائلوں اور چھوٹی کشتیوں کے لامتناہی جوابی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق ایک چھوٹے سے جزیرے پر بھی قبضہ برقرار رکھنے کے لیے کم از کم 5 ہزار سے 10 ہزار فوجیوں، فضائی دفاعی نظام اور مسلسل بحری تحفظ کی ضرورت ہوگی، جو کہ براہ راست ایرانی فائرنگ کی زد میں ہوں گے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کا کوئی بھی زمینی اقدام واشنگٹن کو ایک نہ ختم ہونے والی دلدل میں دھکیل سکتا ہے، جس کی سیاسی قیمت صدر ٹرمپ کو اپنے ہی ملک میں چکانی پڑے گی کیونکہ امریکی عوام اسے ایک نئے عراق جنگ کی طرح دیکھنا شروع کر دیں گے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












