پاکستان مخالف مہم کیلئے برطانوی سرزمین کا استعمال، برطانیہ نے سیکیورٹی قوانین کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کردیا

برطانیہ نے پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف برطانوی سرزمین کے استعمال پر احتجاج اور نفرت انگیز جرائم کے قوانین کا حتمی جائزہ لینا شروع کر دیا۔
پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف برطانوی سرزمین کے استعمال سے متعلق خدشات پر برطانوی حکومت اب متحرک ہو چکی ہے اور اس حوالے سے قانونی اقدامات کا جائزہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
برطانوی ہوم آفس کے مطابق برطانیہ میں پرامن احتجاج اور آزادیٔ اظہارِ رائے بلکل بھی مطلق حقوق نہیں ہیں بلکہ ان کی واضح قانونی حدود مقرر ہیں۔
ہوم آفس نے واضح کیا ہے کہ پرامن احتجاج کا حق صرف اور صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی استعمال کیا جا سکتا ہے اور کسی کو بھی احتجاج کی آڑ میں تشدد، دھمکی یا خوف پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آزادیٔ اظہارِ رائے کی آڑ میں نفرت پھیلانے، تشدد پر اکسانے یا کسی قسم کے مجرمانہ رویے کی تشہیر کرنے کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
برطانوی ہوم آفس کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہروں کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس کو مکمل اختیارات حاصل ہیں اور ایسے مظاہرے جو عوام کو ہراساں کرنے، خوف یا بے چینی پھیلانے کا باعث بنیں، ان پر سخت قانونی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کی معیشتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں، عالمی توانائی ایجنسی
برطانوی حکومت نے نفرت انگیزی اور عوام کو ڈرانے دھمکانے سے متعلق جرائم پر قانون کو پوری سختی سے نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ہوم آفس کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج اور عوام کے تحفظ کے درمیان ایک بہترین توازن برقرار رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسی مقصد کے لیے برطانوی حکومت نے احتجاج اور نفرت انگیز جرائم کے قوانین کا گہرا جائزہ لینے کے لیے لارڈ میکڈونلڈ کی سربراہی میں ایک خصوصی ریویو کرایا ہے۔
اس ریویو کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کیا موجودہ قوانین نفرت انگیزی اور دھمکی آمیز رویوں سے عوام کو مؤثر تحفظ فراہم کرتے ہیں یا نہیں۔
لارڈ میکڈونلڈ کی یہ اہم رپورٹ اب برطانوی حکومت کو پیش کی جا چکی ہے اور اس پر باضابطہ حکومتی ردِعمل اور رپورٹ کی اشاعت سے قبل اس کا انتہائی باریک بینی سے تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











