افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان کیخلاف مسلح مزاحمت، ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر مخالف گروپ کا قبضہ

افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کی نئی لہر شروع ہو گئی، جہاں مخالف گروپ نے ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کر کے اپنا پرچم لہرا دیا۔
افغانستان پر قابض طالبان حکومت کے خلاف ملک کے اندر ہی ایک بار پھر مسلح مزاحمت کی نئی لہر کھڑی ہو گئی ہے، جس سے صوبہ بدخشاں میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔
اس نئی پیش رفت نے طالبان حکومت کے امن و امان سے متعلق کیے جانے والے تمام جھوٹے دعوے زمین بوس کر دیئے ہیں کیونکہ وہ اپنا ہیڈ کوارٹرز بھی بچانے میں ناکام رہے ہیں۔
افغان میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں طالبان کے مخالف ایک مسلح عسکری گروپ نے ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر اچانک بڑا حملہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر عالمی تشویش میں اضافہ
اس حملے کے دوران مسلح گروپ نے نہ صرف طالبان اہلکاروں کا تمام اسلحہ چھین لیا بلکہ کئی گھنٹوں تک اس اہم ضلعی مرکز کا مکمل کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، طالبان مخالف فورسز نے ضلع یفتل کے مرکز میں داخل ہو کر طالبان کا جھنڈا اتار دیا اور وہاں اپنا پرچم لہرا دیا۔
حملہ آور عسکری گروپ ضلعی ہیڈ کوارٹرز سے بڑی مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور قیمتی فوجی سازوسامان بھی اپنے ساتھ لوٹ کر لے جانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
افغانستان میں اس وقت طالبان کے خلاف 2 بڑی عسکری تحریکیں سرگرم ہیں، جن میں فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ شامل ہیں، اور یہ دونوں گروپ بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی دیگر صوبوں میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ بدخشاں کا حالیہ تنازع طالبان کے اندر بڑھتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کو بھی دنیا کے سامنے واضح کرتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











