وزیر اعلیٰ سندھ کا کراچی میں موبائل فون چھیننے کے بڑھتے واقعات پر اظہار تشویش

وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں صوبے بھر خصوصاً کراچی میں جرائم کی نمایاں کمی دعویٰ کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ نے موبائل فون چھیننے کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کوئی نرمی نہیں ہوگی اور دہشت گردوں، منشیات فروشوں اور بھتہ خوروں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ 2026 کے پہلے 6 ماہ میں جرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے، جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کی کارکردگی کو سرہایا، تاہم انہوں نے موبائل فون چھیننے کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ میں 2 لاکھ 75 ہزار خاندانوں کو مفت سولر ہوم سسٹم دیے جائیں گے، وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ نے تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشوں اور آن لائن ڈرگ نیٹ ورکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔
بھتہ خوری کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں بھتہ خوری کے 81 فیصد کیسز ٹریس کر کے کئی گروہوں کا خاتمہ کیا گیا ہے اور بیرون ملک مفرور بھتہ خوروں کے خلاف 4 ریڈ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی نے بتایا کہ 2026 میں دہشت گردی کے واقعات میں 75 فیصد کمی آئی ہے، سی ٹی ڈی نے 777 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر کے کالعدم تنظیموں کے عناصر سمیت 355 دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا۔
کچے کے علاقوں میں جاری ‘آپریشن نجاتِ مہران’ سے متعلق بتایا گیا کہ گزشتہ 6 ماہ میں 141 پولیس مقابلوں کے دوران 275 ڈاکو ہلاک ہوئے جبکہ 550 ڈاکو گرفتار ہوئے یا انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔
وزیراعلیٰ نے چینی شہریوں، غیر ملکی سفارتی مشنز اور حساس تنصیبات کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں ہائی ویز کے حوالے سے بتایا گیا کہ سندھ پولیس ہائی وے پٹرول 2,150 کلومیٹر شاہراہوں پر فعال ہے، جہاں ٹریفک حادثات کے کنٹرول سسٹم کے تحت 12 لاکھ 40 ہزار سے زائد ڈیجیٹل چالان جاری کیے گئے، جس سے ٹریفک حادثات میں 44 فیصد اور اموات میں 19 فیصد کمی آئی ہے۔
سرحدی نگرانی پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ صوبے کے 139 کراسنگ پوائنٹس بشمول حب-کراچی، جامشورو-حب، دادو-خضدار، کشمور-ڈیرہ بگٹی-راجن پور اور گھوٹکی-رحیم یار خان پر نگرانی سخت کر کے پولیس چوکیاں اور پٹرولنگ بڑھا دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بین الصوبائی سرحدوں پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مزید بڑھانے اور عوام کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم دیا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











