جوتوں پر سیلز ٹیکس سے متعلق ایف بی آر نے وضاحت جاری کردی

Branded Shoes to Cost More
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جوتوں کی فروخت پر سیلز ٹیکس کے نفاذ سے متعلق اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے نیا طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق اب جوتوں پر سیلز ٹیکس کا اطلاق ریٹیل قیمت کی بنیاد پر کیا جائے گا، تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام میں زیادہ شفافیت اور یکسانیت لائی جا سکے۔ اس فیصلے کا مقصد ٹیکس کے نفاذ میں موجود ابہام کو ختم کرنا اور کاروباری طبقے کو واضح رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
ایف بی آر نے یہ وضاحتی جنرل آرڈر پاکستان فٹ ویئر ایسوسی ایشن کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات کے بعد جاری کیا۔ جنرل آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ وہ تمام ریٹیلرز جو ڈیجیٹلی انٹیگریٹڈ ہیں اور پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم سے منسلک ہیں، ان کی فروخت کو مکمل طور پر دستاویزی اور قابل تصدیق تصور کیا جائے گا۔ اس اقدام سے فروخت کا ریکارڈ محفوظ رہے گا اور ٹیکس وصولی کا عمل مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
ادارے کے مطابق ڈیجیٹل سپلائی چین کے ذریعے فروخت ہونے والی مصنوعات کی مکمل نگرانی الیکٹرانک نظام کے تحت کی جائے گی۔ اس طریقہ کار سے ہر فروخت کی تصدیق ممکن ہوگی اور ٹیکس چوری یا غلط معلومات فراہم کرنے کے امکانات میں کمی آئے گی۔
وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بیشتر برانڈ مالکان یا مینوفیکچررز مصنوعات کی حتمی ریٹیل قیمت خود مقرر نہیں کرتے۔ مارکیٹ میں قیمت کا تعین زیادہ تر ریٹیلرز کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے سیلز ٹیکس بھی اسی ریٹیل قیمت کی بنیاد پر وصول کیا جائے گا جو صارف کو فروخت کے وقت وصول کی جاتی ہے۔ اس فیصلے سے ٹیکس کے حساب کتاب میں یکسانیت پیدا ہوگی اور مختلف سطحوں پر پیدا ہونے والے اختلافات میں کمی آئے گی۔
ایف بی آر نے اس نئے نظام پر عمل درآمد کے لیے ایک باقاعدہ "امپلی منٹیشن میٹرکس” بھی جاری کر دیا ہے۔ اس دستاویز میں ٹیکس کے نفاذ، تشخیص اور وصولی کے مراحل کی وضاحت کی گئی ہے تاکہ تمام متعلقہ ادارے اور کاروباری افراد ایک ہی طریقہ کار کے مطابق عمل کر سکیں۔ جنرل آرڈر کی تشریح یا اس پر عمل درآمد سے متعلق کسی بھی سوال کا جواب صرف ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو پالیسی ونگ کی جانب سے دیا جائے گا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












