سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے بیانات، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کی شدید مذمت

متحدہ عرب امارات اور برطانیہ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف دی جانے والی سمندری ناکہ بندی کی دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف دیئے گئے حالیہ بیانات اور بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
اماراتی وزارتِ خارجہ نے بیان میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یمن سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 اور بحیرہ احمر میں آزادانہ جہاز رانی کے حقوق کی تحفظ والی قرارداد 2722 پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔
اماراتی بیان کے مطابق بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں تجارت اور جہاز رانی کی آزادی 1982 کے اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے تحت ایک مسلمہ حق ہے۔ ابوظہبی نے ریاض کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب برطانیہ نے بھی حوثیوں کے اس اقدام کو خطے میں مزید بدامنی پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کی حوثی ملیشیا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کی مذمت، الزامات کو مسترد کر دیا
برطانوی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ حوثیوں کے یہ اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے حق کو متاثر کرتے ہیں بلکہ یمن میں امن کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ برطانیہ نے حوثیوں سے تمام تصادم پسندانہ اقدامات کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسپین، اٹلی اور جرمنی کے ہم منصبوں کے ساتھ فون پر اہم گفتگو کی ہے۔
ان رابطوں کے دوران انہوں نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے درپیش خطرات اور خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں پر گفتگو کی۔
اس سے قبل سعودی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب پر سمندری ناکہ بندی نافذ کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حوثی پورے یمن کو خطے کی جنگی آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












