جمعہ، 24-جولائی،2026
جمعہ 1448/02/10هـ (24-07-2026م)

افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہے، اسحاق ڈار

24 جولائی, 2026 15:17

اسحاق ڈار نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو پاکستان کے لیے بڑا سیکیورٹی چیلنج قرار دیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کرغزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنظیم کی سلور جوبلی پوری تنظیم کے لیے باعثِ فخر ہے اور کرغزستان نے اس اجلاس کی بہترین میزبانی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم معیشت، ثقافت اور امن کا ایک جامع فورم بن چکی ہے، جو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شنگھائی اسپرٹ باہمی اعتماد، مشترکہ ترقی اور تعمیری سفارت کاری کی بنیاد ہے، جبکہ رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ خطے میں معاشی اور تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قومی کرنسیوں میں باہمی تجارت اور ادائیگی کے نظام کو فروغ دینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں آزادی پسند تحریکوں کا زور، طالبان اندرونی اختلافات کے باعث کنٹرول کھونے لگے

اسحاق ڈار نے علاقائی توانائی کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تاپی اور کاسا 1000 منصوبے علاقائی توانائی کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور وہاں سے پاکستان پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ رواں سال کے دوران 2 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 560 پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔

انہوں نے دہشت گردانہ حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام عالمی تنازعات کا حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔