پیر، 27-جولائی،2026
پیر 1448/02/13هـ (27-07-2026م)

ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ میں ناکامی کے بعد شدید ذہنی دباؤ اور الجھن کا شکار ہو گئے

27 جولائی, 2026 14:33

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کو فوری ختم کرنے اور اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد شدید الجھن اور سفارتی دباؤ کا شکار ہوگئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ماضی میں ہمیشہ اپنی لا محدود طاقت کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں، 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کے بعد سے شدید الجھن اور ناکامی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے اور وہاں کی حکومت کی تبدیلی کا جو ہدف طے کیا تھا، 5 ماہ گزرنے کے باوجود اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

وینزویلا کی طرز پر ایران میں تبدیلی لانے کا ان کا خواب حقیقت نہ بن سکا، جبکہ دوسری طرف تیل کی عالمی قیمتوں میں شدید اضافے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت معطل ہونے نے امریکی معیشت اور دنیا بھر کی مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس مسلسل ناکامی اور شدید دباؤ نے صدر ٹرمپ کو اپنے فیصلے بار بار بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ 18 ماہ سے طے پانے والے سول نیوکلیئر معاہدے کو صرف 24 گھنٹوں کے اندر یہ شرط رکھ کر ختم کر دیا کہ وہ پہلے اسرائیل کو تسلیم کرے، جس سے اتحادی ملک شدید ناراض ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کیلئے ایران پر حملے روکے، امریکی سفیر

اس کے علاوہ انہوں نے کینیڈا کے ساتھ مل کر بننے والے اربوں ڈالر کے نئے پل کے افتتاح کے موقع پر کینیڈا کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس لگا دیا، جس کے جواب میں کینیڈا نے امریکی حکام کو تقریب میں آنے سے روک دیا۔

یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنی ہی جماعت ریپبلکنز کے ہاؤسنگ بل پر دستخط کرنے سے آخری لمحے میں انکار کر دیا، جس سے ان کا اپنا وائٹ ہاؤس اور ان کی پارٹی شدید شرمندگی کا شکار ہوئی۔

صدر ٹرمپ اب تین انتہائی مشکل راستوں کے درمیان پھنس چکے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ وہ مزید شدید فضائی حملے کریں، لیکن فوج کے اعلیٰ حکام نے انہیں خبردار کیا ہے کہ 13 راتوں کے مسلسل حملوں سے امریکہ کے پاس دفاعی ہتھیاروں کی شدید کمی ہو چکی ہے، جس سے روس اور چین فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ہزاروں بے گناہ شہری بھی مارے جا سکتے ہیں۔

دوسرا راستہ پابندیاں سخت کرنے کا ہے جو کہ ایک انتہائی سست طریقہ کار ہے اور تیسرا راستہ یہ ہے کہ وہ جنگ میں اپنی فتح کا جھوٹا اعلان کر کے چپ چاپ واپس نکل جائیں۔

امریکہ میں اب عوامی سطح پر اس جنگ کی مقبولیت صرف 29 فیصد رہ گئی ہے اور اسپیکر مائیک جانسن سمیت ان کے اپنے ساتھی اب ان سے کھلم کھلا جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کو خوف ہے کہ یہ جنگ امریکہ کو سن 1929 کے تاریخی معاشی بحران کی طرف نہ لے جائے، لیکن کسی واضح حکمت عملی کے بغیر میدان میں اترنے کے بعد اب ان کے پاس عزت بچا کر نکلنے کا کوئی واضح راستہ بھی باقی نہیں بچا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔