بدھ، 29-جولائی،2026
بدھ 1448/02/15هـ (29-07-2026م)

پی ٹی اے کا غیرملکی سمز استعمال کرنے والوں کیلئے اہم انتباہ جاری

29 جولائی, 2026 09:59

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیرملکی سمز کے استعمال کے حوالے سے صارفین کو خبردار کردیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق غیرملکی سمز کی خرید و فروخت قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ایسی سمز کا استعمال صارفین کے لیے مختلف مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ غیرقانونی ذرائع سے حاصل کی گئی سم کے ذریعے کی جانے والی کالز اور پیغامات ذاتی اور مالی معلومات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ غیرملکی یا غیرقانونی سمز کے استعمال سے صارفین قانونی پیچیدگیوں میں بھی پھنس سکتے ہیں۔ اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ موبائل سم حاصل کرتے وقت صرف قانونی اور رجسٹرڈ ذرائع کا انتخاب کریں۔

پی ٹی اے نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سم ہمیشہ اپنے قریبی موبائل فرنچائز یا رجسٹرڈ آؤٹ لیٹ سے خریدیں۔ سم حاصل کرنے کے بعد یہ بھی یقینی بنائیں کہ وہ صارف کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہو۔ اس اقدام سے صارفین اپنی شناخت اور ذاتی معلومات کو زیادہ محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی اے نے غیر فعال سمز کے حوالے سے بھی صارفین کو آگاہ کیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق موبائل آپریٹرز کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسی سمز بند کرسکتے ہیں جو مسلسل 6 ماہ سے استعمال نہیں ہو رہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق وہ سمز جن پر 180 دن کے دوران کوئی کال، پیغام یا موبائل انٹرنیٹ استعمال نہیں کیا گیا، انہیں غیر فعال کیا جاسکتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد غیر استعمال شدہ نمبرز کو دوبارہ منظم کرنا اور موبائل سمز کے استعمال کو بہتر بنانا ہے۔

حکام کے مطابق اگر کسی سم کو 6 ماہ تک استعمال نہ کیا جائے اور اسے بند کردیا جائے تو بعد میں وہ نمبر کسی دوسرے صارف کو جاری کیا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں سابق صارف کا اس نمبر پر قانونی دعویٰ باقی نہیں رہے گا۔

پی ٹی اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی زیر استعمال سمز کو ذمہ داری کے ساتھ فعال رکھیں۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنی شناخت پر جاری تمام سمز کے بارے میں معلومات رکھیں اور غیر ضروری یا غیر استعمال شدہ سمز کے معاملے میں بروقت کارروائی کریں۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔