پیر، 3-اگست،2026
پیر 1448/02/20هـ (03-08-2026م)

ملکی معیشت میں بہتری کے آثار، مینوفیکچرنگ اور زراعت کے لیے نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں بڑا اضافہ

03 اگست, 2026 14:08

مالی سال 2025-26 میں نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں تقریباً 15 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جو گزشتہ 4 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ نجی شعبے کا مجموعی قرضہ 11.38 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں نجی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے معاشی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس مالی سال میں نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں تقریباً 15 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو کہ پچھلے 4 سال کے دوران سب سے زیادہ شرح ہے۔

اس اضافے کے بعد نجی شعبے کو دیا گیا نیا قرضہ 1.46 کھرب روپے اضافے کے ساتھ مجموعی طور پر 11.38 کھرب روپے کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اعلیٰ سطحی امریکی کاروباری وفد کا دورہ کراچی، سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کا جائزہ

مشیر وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں مالی معاونت کا بڑھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک میں کاروباری اور پیداواری سرگرمیوں کو تیزی سے فروغ مل رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نجی شعبے کو دیے گئے نئے قرضوں کا تقریباً 89 فیصد حصہ مینوفیکچرنگ، تھوک و پرچون تجارت اور زراعت جیسے اہم پیداواری شعبوں کو فراہم کیا گیا ہے۔

صرف مینوفیکچرنگ یعنی صنعتی شعبے نے 657 ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے ہیں، جو ملکی سطح پر صنعتی کارروائیوں اور اشیاء کی پیداواری صلاحیت میں وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔

تجارت اور زراعت کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی اس مالی مدد سے ملکی پیداوار، کاروباری سرگرمیوں اور نجی سرمایہ کاری کو نئی طاقت ملی ہے۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے زور دیا کہ نجی شعبے کا یہ قرضہ کاروباری اعتماد کی بحالی، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی مثبت سمت کو ظاہر کرتا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔