نادرا میں ’ب فارم‘ کی درخواست دینے سے پہلے ان باتوں کا خاص خیال رکھیں

NADRA B-Form Applicants, Beware Before Applying
بچوں کا ب فارم بنوانے کے لیے نادرا دفتر جانے یا پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے درخواست دینے سے پہلے چند اہم باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
اگر بنیادی معلومات یا شناختی دستاویزات میں کوئی مسئلہ ہو تو درخواست کے عمل میں غیر ضروری تاخیر ہو سکتی ہے۔ والدین کو درخواست جمع کروانے سے پہلے نادرا ریکارڈ کی تفصیلات اچھی طرح چیک کر لینی چاہییں۔
ب فارم کے لیے درخواست دینے والے والدین کے شناختی کارڈ فعال اور قابلِ استعمال ہونا ضروری ہیں۔ والد اور والدہ دونوں کے شناختی کارڈ کی میعاد ختم نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی ایک والدین کا شناختی کارڈ ایکسپائر ہو چکا ہو تو پہلے اسے درست کروانا بہتر ہے۔ اس کے بعد بچے کے ب فارم کے لیے درخواست دی جائے۔
نادرا کے ریکارڈ میں والدین کے ذاتی کوائف بھی درست ہونا ضروری ہیں۔ ان میں والدین کے نام، شوہر یا بیوی کا نام اور شناختی کارڈ نمبر سمیت دیگر بنیادی معلومات شامل ہیں۔ درخواست دینے سے پہلے ان تفصیلات کا جائزہ لے لینا چاہیے۔ کسی بھی غلطی کی صورت میں پہلے نادرا ریکارڈ درست کروانا ضروری ہو سکتا ہے۔
والدین کی ازدواجی حیثیت بھی نادرا کے ریکارڈ میں درست درج ہونی چاہیے۔ اگر ریکارڈ میں شادی شدہ ہونے کے باوجود ازدواجی حیثیت غیر شادی شدہ ظاہر ہو رہی ہو تو ب فارم کی درخواست میں مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے والدین کو درخواست سے پہلے اپنے ریکارڈ کی تصدیق کر لینی چاہیے۔
بچے کی پیدائش کا اندراج بھی مکمل ہونا ضروری ہے۔ یونین کونسل میں بچے کی پیدائش کا ریکارڈ درست کوائف کے ساتھ درج ہونا چاہیے۔ بچے کا نام، تاریخ پیدائش اور دیگر ضروری معلومات میں کسی قسم کی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔ پیدائش کے اندراج میں مسئلہ ہونے کی صورت میں پہلے متعلقہ یونین کونسل سے اسے درست کروانا بہتر ہے۔
نادرا کے ب فارم سے متعلق ایک اہم شرط بچے کی عمر سے بھی جڑی ہے۔ تین سال سے زیادہ عمر کے بچے کے لیے درخواست دیتے وقت بچے کی موجودگی ضروری ہو سکتی ہے۔ ایسے بچوں کی تصویر اور انگلیوں کے نشانات حاصل کیے جاتے ہیں۔ والدین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ درخواست کے مرحلے پر انہیں دوبارہ دفتر کا چکر نہ لگانا پڑے۔
ب فارم کے لیے درخواست نادرا دفتر کے علاوہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے بھی دی جا سکتی ہے۔ تاہم آن لائن درخواست دینے سے پہلے بھی والدین کو اپنے نادرا ریکارڈ اور شناختی دستاویزات کی حیثیت ضرور چیک کرنی چاہیے۔ تمام معلومات درست اور مکمل ہونے سے درخواست کے عمل میں رکاوٹ کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
والدین کے لیے بہتر ہے کہ ب فارم کی درخواست جمع کروانے سے پہلے اپنے شناختی کارڈ، ازدواجی حیثیت، نادرا میں درج خاندانی کوائف اور یونین کونسل میں بچے کے پیدائشی اندراج کی تصدیق کر لیں۔ اس کے علاوہ اگر بچہ تین سال سے بڑا ہے تو اس کی تصویر اور فنگر پرنٹس کے لیے موجودگی بھی یقینی بنائیں۔
نادرا کے ریکارڈ میں معلومات مکمل اور درست ہونے کی صورت میں ب فارم کے حصول کا عمل نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ معمولی غلطی یا نامکمل معلومات کی وجہ سے درخواست میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس لیے والدین کو درخواست دینے سے پہلے تمام ضروری تفصیلات کی جانچ کرنی چاہیے تاکہ وقت اور اضافی مشقت سے بچا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











