بدھ، 19-اگست،2026
بدھ 1448/03/06هـ (19-08-2026م)

افغان طالبان کھربوں ڈالر کی معدنی دولت ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے لگے، امریکی تھنک ٹینک کا انکشاف

10 اگست, 2026 10:42

معروف امریکی تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن نے افغان طالبان رجیم کی بدعنوانی، اقرباپروری اور افغانستان کی قیمتی معدنی دولت پر اجارہ داری سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم افغانستان میں موجود ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کی معدنی دولت کو قومی ترقی اور عوامی فلاح کے بجائے اشرافیہ کی سرپرستی، سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے اور اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال جون میں طالبان رجیم نے بدخشاں میں تقریباً ایک ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے تاکہ قیمتی معدنیات کی کانوں پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیا جا سکے۔

افغانستان میں کھربوں ڈالر کی معدنی دولت

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی وسائل موجود ہیں، جبکہ ملک کے 34 صوبوں میں 1,400 سے زائد معدنی ذخائر کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے مطابق طالبان حکومت نے 150 سے زائد کمپنیوں کو 205 کان کنی کے معاہدے دیے ہیں اور تقریباً ساڑھے 6 ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، تاہم ان معاہدوں اور منصوبوں کی مکمل تفصیلات تاحال عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کان کنی کے لائسنس اور معاہدوں میں شفافیت کا فقدان ہے، جبکہ طالبان سے منسلک نیٹ ورکس اور مبینہ منرل مافیا معدنی آمدن پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

بدخشاں اور تخار میں مقامی آبادی متاثر

رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کان کنی کے علاقوں میں اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی آبادی پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ بدخشاں اور تخار میں کان کنی کی زمینوں پر قبضے، مقامی آبادی کی بے دخلی اور مسلح جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے مطابق معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے منافع کے لیے کمزور طبقات کا استحصال بھی جاری ہے، جبکہ کم عمر بچے حفاظتی سہولیات کے بغیر خطرناک کوئلے کی کانوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

معدنی وسائل پر قبضہ، مزاحمت کی ایک بڑی وجہ

رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری مزاحمتی سرگرمیوں اور طالبان کے خلاف بعض حملوں کے پس پردہ معدنی وسائل پر قبضہ اور کان کنی کے علاقوں پر کنٹرول بھی ایک اہم عنصر ہے۔

ماہرین کے مطابق طالبان کی جانب سے کان کنی کے معاہدوں اور آمدن سے متعلق تفصیلات کو خفیہ رکھنا شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کے بعض حصے غیر قانونی نیٹ ورکس، دہشتگردی کی مالی معاونت اور افغانستان کی غیر قانونی معیشت میں منتقل ہوسکتے ہیں۔

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے ان انکشافات نے افغانستان کے وسیع معدنی وسائل کے استعمال، طالبان رجیم کی کان کنی پالیسی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کی شفافیت پر ایک بار پھر عالمی سطح پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔