ٹرمپ کی جنگ امریکا کو مہنگی پڑنے لگی؛ امریکی سینیٹر چک شومر نے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن: امریکی سینیٹر چک شومر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
چک شومر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو ایک غیر قانونی جنگ میں دھکیل دیا ہے اور اب وہ اس جنگ میں ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے پاس اس جنگ سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ بھی موجود نہیں۔
امریکی سینیٹر نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ میں حکمت عملی، نظم و ضبط اور سنجیدہ مذاکرات کی صلاحیت کا فقدان ہے، جس کے باعث نہ صرف امریکا کی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے بلکہ امریکی فوجیوں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
چک شومر نے کہا کہ جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ عام امریکی شہری بھی اس کے معاشی اثرات برداشت کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق جنگ کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے امریکی عوام پر مزید مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
انہوں نے ٹرمپ کی قیادت کو مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اس جنگ کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا اور ٹرمپ کی جانب سے پیدا کیے گئے بحران سے نکلنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
چک شومر کے مطابق موجودہ صورتحال میں مزید فوجی کشیدگی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں اور جنگ کے معاشی اثرات سے بھی عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










