آبنائے ہرمز کھولنے کا راستہ کیا ہے؟ عباس عراقچی نے دوٹوک مؤقف پیش کردیا

Oman Deal Nears Final Stage
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے امریکا کی فوجی کارروائیوں اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہے۔
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈی فول سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے امریکی حملوں اور بحری ناکہ بندی کو روکنا ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جرمن ہم منصب کو عمان کے ساتھ جاری مشاورت سے بھی آگاہ کیا۔ ا
ن کے مطابق اس مشاورت کا مقصد آبنائے ہرمز سے محفوظ بحری آمدورفت کے لیے ایک ایسا راستہ متعین کرنا ہے جس کے ذریعے تجارتی اور دیگر بحری سرگرمیاں بحال کی جا سکیں۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ بدامنی کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سکیورٹی اور معاشی اثرات کے حوالے سے امریکی حکام کو جواب دہ بنایا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے تحفظ اور معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے امریکا کی جارحانہ کارروائیوں اور مداخلت کا خاتمہ ضروری ہے۔
انہوں نے بحری ناکہ بندی کے علاوہ امریکا کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں کو بھی موجودہ صورتحال کی وجوہات میں شامل کیا۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان ایک اہم بحری راستہ ہے، جہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی سطح پر خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










