بدھ، 19-اگست،2026
بدھ 1448/03/06هـ (19-08-2026م)

لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت، ایران نے امریکا کو بھی جنگی جرائم میں شریک قرار دے دیا

11 اگست, 2026 13:09

تہران: ایران نے لبنان کے جنوبی علاقوں پر گزشتہ کئی روز سے جاری اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکا کو بھی اسرائیلی کارروائیوں میں شریک قرار دے دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں لبنانی شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے اسرائیل پر لبنان کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ عالمی اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خاموشی اور بے حسی نے اسرائیل کو اپنی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔

ان کے مطابق عالمی برادری کی جانب سے مؤثر اقدام نہ ہونے کے باعث لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی وسیع حمایت کے باعث امریکی انتظامیہ کو لبنان، مقبوضہ فلسطین اور خطے کے دیگر علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں کا شریک سمجھا جاتا ہے۔

اسماعیل بقائی نے اسرائیلی حملوں کے مقابلے میں لبنانی عوام کی مزاحمت اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران لبنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

ان کے مطابق ایران لبنان کی خودمختاری، قومی وقار اور آزادی کے دفاع کی حمایت جاری رکھے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششوں کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔

روم میں امریکا کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ساتویں دور کے اختتام کے چند روز بعد جنوبی لبنان میں شدید اسرائیلی توپ خانے کی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ یہ حملے جون میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد جنوبی لبنان میں ہونے والی شدید ترین کارروائیوں میں شمار کیے گئے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان 26 جون کو امریکا کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت لبنان کے زیر قبضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کا منصوبہ پیش کیا گیا۔

معاہدے کے مطابق انخلا کا عمل مخصوص علاقوں سے شروع ہونا تھا، تاہم مکمل انخلا کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔

معاہدے میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد متعلقہ علاقوں کی سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری لبنانی فوج کو منتقل کرنے اور مسلح گروہوں، بالخصوص حزب اللہ، کو غیر مسلح کرنے سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔

تاہم سفارتی کوششوں کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے سے معاہدے پر عملدرآمد اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے جاری اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 4 ہزار 335 افراد جاں بحق، 12 ہزار 250 سے زائد زخمی اور 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔