ایرانی حملے کے ڈر سے امریکی صدر کو کیٹرنگ کنٹینر میں خفیہ طور پر جہاز تک لے جایا گیا؛ رپورٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد مبینہ ایرانی حملے کے خطرے کے پیش نظر انتہائی خفیہ سیکیورٹی آپریشن کے تحت ایئر فورس ون سے ایک چھوٹے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے امریکا کو اطلاع دی تھی کہ ایران ٹرمپ کے طیارے کو زمین سے داغے جانے والے میزائل کے ذریعے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرسکتا ہے۔ اس اطلاع کے بعد امریکی خفیہ سروس اور قومی سلامتی کے حکام نے صدر کے سفر کے انتظامات تبدیل کیے۔
رپورٹ کے مطابق 8 جولائی کو انقرہ میں نیٹو اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ بظاہر ایئر فورس ون میں سوار ہوئے، تاہم حقیقت میں انہیں چند اہلکاروں کے ہمراہ طیارے سے ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر نکالا گیا۔
یہ ٹرک امریکی صدر کو ایک چھوٹے فوجی طیارے C-32A تک لے گیا، جس کے ذریعے انہیں ترکیہ سے برطانیہ منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب ایئر فورس ون کو بطور ڈیکائے طیارہ روانہ کیا گیا تاکہ ممکنہ حملہ آوروں کو یہی تاثر ملے کہ صدر اسی طیارے میں موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس خفیہ منصوبے سے صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ ایئر فورس ون میں موجود کچھ افراد بھی یہ سمجھتے رہے کہ صدر ٹرمپ اسی طیارے میں سفر کر رہے ہیں۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات میں مبینہ طور پر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے ایرانی منصوبے کا ذکر تھا۔ امریکی سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی نے بھی اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو ٹرمپ کے خلاف ایک مخصوص منصوبے سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔
تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس خطرے کی نوعیت کے بارے میں مختلف مؤقف سامنے آئے۔ بعض امریکی ذرائع کے مطابق موصول ہونے والی معلومات کسی مکمل اور منظم قاتلانہ منصوبے کے بجائے ایرانی حکام کے درمیان ٹرمپ کو قتل کرنے کے امکان پر ہونے والی عمومی گفتگو سے متعلق تھیں۔
ٹرمپ کے ترکیہ سے واپسی کے انتظامات میں ایک اور غیر معمولی پہلو بھی سامنے آیا۔ ترکیہ پہنچنے کے لیے امریکی صدر نے قطر کی جانب سے فراہم کردہ نئے بوئنگ 747-8 طیارے کا استعمال کیا تھا، لیکن واپسی پر پرانے ایئر فورس ون کو ترجیح دی گئی۔
بعد میں حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ نئے طیارے میں پرانے صدارتی طیارے کے مقابلے میں بعض دفاعی صلاحیتیں موجود نہیں تھیں، جس کے باعث سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں پرانا طیارہ زیادہ موزوں سمجھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پرانے ایئر فورس ون پر موجود صحافیوں کو پرواز کے دوران کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ ٹرمپ بعد میں برطانیہ کے ایک اڈے پر اسی طیارے سے اترتے دکھائی دیے۔ اس طرح یہ تاثر برقرار رہا کہ انہوں نے ترکیہ سے اسی طیارے پر سفر کیا تھا۔
ٹرمپ کو درپیش مبینہ ایرانی خطرات کا پس منظر بھی کئی سال پرانا ہے۔ 2020 میں امریکی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی حلقوں کی جانب سے امریکی صدر کے خلاف انتقامی کارروائی کی دھمکیاں سامنے آتی رہی ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے دوران بھی ٹرمپ کے خلاف سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر نے خود بھی ماضی میں کہا تھا کہ انہیں ایرانی ہدفی فہرستوں میں شامل ہونے اور اپنی جان کو لاحق خطرے کا علم ہے۔
تاہم ایران کی جانب سے ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی اس مخصوص مبینہ سازش کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ امریکی خفیہ سروس نے بھی مخصوص سیکیورٹی آپریشن پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
تازہ رپورٹ سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام نے ٹرمپ کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے، تاہم ان اقدامات کی مکمل تفصیلات اور مبینہ خطرے کی اصل نوعیت کے بارے میں کئی پہلو تاحال واضح نہیں ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










