جمعہ، 14-اگست،2026
جمعہ 1448/03/01هـ (14-08-2026م)

دنیا نے ایسی اقتصادی تنہائی پہلے نہیں دیکھی ہوگی؛ امریکا کی ایران کو بڑی معاشی دھمکی

14 اگست, 2026 11:34

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف مزید سخت معاشی اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران کو ایسی اقتصادی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی دنیا میں پہلے مثال نہیں ملتی۔

اسکاٹ بیسنٹ نے قدامت پسند امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک نیوز میکس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں اور دیگر معاشی اقدامات کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

امریکی وزیر خزانہ کے مطابق واشنگٹن ایران کو عالمی معیشت سے مزید الگ کرنے کے لیے متعدد اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی حکمت عملی کے ذریعے ایران کی تجارت، آمدنی اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کو محدود کیا جائے گا۔

اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر معاشی دباؤ کے حوالے سے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی مسلسل ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی بندرگاہوں سے سامان کی آمدورفت شدید متاثر ہوسکتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے لیے سامان کی درآمد اور برآمد مزید مشکل ہوجائے گی، جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار ایرانی معیشت پر اضافی اثر پڑ سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، اس لیے اس میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے اثرات ایران سے آگے بھی عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے نئی پابندیوں کے اعلان کا عندیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

نئی پابندیوں کی صورت میں ایران کی تیل کی آمدنی، بین الاقوامی تجارت، مالیاتی لین دین اور عالمی مارکیٹ تک رسائی مزید محدود ہونے کا امکان ہے۔

امریکا پہلے ہی ایران پر وسیع پیمانے پر اقتصادی پابندیاں عائد کرچکا ہے، تاہم بیسنٹ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن تہران کے خلاف موجودہ معاشی دباؤ کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایران کے خلاف مزید سخت معاشی اقدامات اور آبنائے ہرمز میں مسلسل کشیدگی کے اثرات صرف ایرانی معیشت تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایران خطے میں توانائی کی پیداوار اور تجارت کا ایک اہم ملک ہے، جبکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

اگر سمندری تجارت میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے یا مزید بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور عالمی تجارتی سرگرمیوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

یوں امریکا کی جانب سے ایران کو مزید معاشی طور پر تنہا کرنے کی دھمکی خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے ساتھ ایک نئے معاشی محاذ کے کھلنے کی نشاندہی کرتی ہے۔ آئندہ ہفتے واشنگٹن کی جانب سے اعلان کیے جانے والے ممکنہ اقدامات سے یہ واضح ہوگا کہ امریکا ایران پر معاشی دباؤ کو کس حد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔