نیتن یاہو نے برطانیہ کو ’پہلی جوہری اسلامی جمہوریہ‘ قرار دیدیا

President Isaac Herzog remarks about Netanyahu
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے برطانیہ کے حوالے سے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ دنیا کی پہلی ایسی اسلامی جمہوریہ بن سکتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے یہ بات اسرائیلی آرمی ریڈیو کے لیے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں کہی، جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔
نیتن یاہو نے ماضی کے برطانیہ اور موجودہ برطانیہ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آج کے برطانیہ میں پہلے جیسا اسرائیل نواز ماحول نظر نہیں آتا۔ ان کے بقول برطانیہ اب ایک ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ بن چکا ہے۔
انٹرویو کے دوران صحافی نے نیتن یاہو سے سوال کیا کہ وہ صرف برطانیہ کو تنقید کا نشانہ کیوں بنا رہے ہیں، جبکہ یورپ کے دیگر ممالک کا اسرائیل کے حوالے سے مؤقف بھی تبدیل ہو رہا ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید کہا کہ کسی نے یہ بات کہی ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والی پہلی اسلامی جمہوریہ برطانیہ ہوگی۔
اس بیان کو برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو کے بیان کے بعد بعض تجزیہ کاروں نے پاکستان کا حوالہ بھی دیا ہے۔ پاکستان آئینی طور پر اسلامی جمہوریہ ہے اور دنیا کی واحد مسلم اکثریتی جوہری ریاست ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے ’’جوہری اسلامی جمہوریہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کیے جانے کو پاکستان کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، بالخصوص اس لیے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں پاکستان کا براہِ راست نام نہیں لیا۔
نیتن یاہو کا متنازع بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ، اسرائیلی بستیوں اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔
برطانیہ میں غزہ کی صورتحال اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے حکومت پر اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھتا رہا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اسرائیلی اقدامات کے بعض پہلوؤں پر تنقید اور پابندیوں کے اقدامات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں بھی تناؤ پیدا کیا ہے۔
اسی صورتحال کے باعث اسرائیلی حکومت کی جانب سے برطانوی پالیسی پر تنقید میں بھی شدت دیکھی گئی ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس سے کنیسٹ کے امیدوار ایوی ڈابوش نے نیتن یاہو کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق ایسے وقت میں جب اسرائیل کو عالمی سطح پر غیر معمولی سفارتی تنہائی کا سامنا ہے، ایک اہم اتحادی ملک کا مذاق اڑانا اسرائیلی حکومت کی ’’خوفناک سفارتی ناکامی‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے فوری طور پر یہ وضاحت سامنے نہیں آئی کہ برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ قرار دینے والا بیان اسرائیلی حکومت کا باضابطہ مؤقف ہے یا وزیراعظم کا ذاتی سیاسی تبصرہ۔
برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے بھی فوری طور پر اس بیان پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی 2024 میں برطانیہ کے حوالے سے اسی نوعیت کا متنازع بیان دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس وقت خدشہ ظاہر کیا تھا کہ برطانیہ دنیا کا پہلا حقیقی اسلام پسند ملک بن سکتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔
نیتن یاہو کا تازہ بیان اسی نوعیت کے سیاسی اور طنزیہ تبصروں کی ایک نئی مثال قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر اسرائیل اور برطانیہ دونوں میں ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










